:اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز کاروبار حصص میں مندی کا رجحان

کراچی:اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز کاروبار حصص میں مندی کا رجحان

کے ایس ای100انڈیکس مزید105.14پوائنٹس کی کمی سے41701پوائنٹس کی سطح پرآ گیا

56.44فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ،سرمایہ کاروں کو 10ارب22کروڑ روپے سے زائد کا نقصان

کراچی(ویب ڈیسک )پاکستان اسٹاک  ایکس چینجمیںکاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو بھی کاروبار حصص میں مندی کا رجحان برقرار رہا جس کے نتیجے میںکے ایس ای100انڈیکس مزید105.14پوائنٹس کی کمی سے41701پوائنٹس کی سطح پرآ گیااور56.44فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے باعث سرمایہ کاروں کو 10ارب22کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑاتاہم حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی جمعرات کی نسبت 1لاکھ 32ہزارشیئرززائد رہا۔جمعہ کوکاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے مخصوص منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری میں دلچسپی کے باعث تیزی دیکھنے میں آئی جس کے باعث دوران ٹریڈنگ کے ایس ای 100انڈیکس42ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی تاہم بعد ازاں حصص فروخت کا دباو بڑھنے سے مندی چھاگئی جس کی وجہ سے 42ہزار کی نفسیاتی حد پھر گرگئی اورکاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس105.14پوائنٹس کی کمی سے 41701.23پر بند ہوا۔اسی طرح کے ایس ای30 انڈیکس52.86 پوائنٹس کی کمی سے 17605.68پوائنٹس  اورکے ایم آئی30انڈیکس373.21پوائنٹس کے خسارے سے 66558.61پوائنٹس پر آگیاجب کہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 38.77پوائنٹس کے اضافے سے29636.11پوائنٹس کی سطح پرپہنچ گیا ۔مارکیٹ میں مجموعی طور پر43کروڑ50لاکھ17ہزار984شیئرز کے سودے ہوئے جبکہ جمعرات کو 43کروڑ48لاکھ85ہزار131حصص کا کاروبار ہوا تھا۔گزشتہ روز مجموعی طور پر411کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 161کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 232میں کمی اور 18کمپنیو ں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔مندی کے باعث سرمائے کا مجموعی سرمایہ 10ارب22کروڑ85لاکھ17ہزار505 روپے گھٹ کر78کھرب18ارب84کروڑ19لاکھ62ہزار837روپے رہ گیا۔قیمتوں میں اتار چڑھاوکے لحاظ سے یونی لیور فوڈزکے حصص کی قیمت 1040روپے کے اضافے سے15ہزارروپے اورنیسلے پاکستان178.75روپے کے اضافے سے 6790روپے ہوگئی جب کہ مری بریوری 48.75روپے کی کمی سے 601.25روپے اورپریمیئر شوگر28.99روپے کی کمی سے 430.01روپے کے ساتھ نمایاں رہے۔

#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.