فیس بک کا ممکنہ’ضرر رساں مواد‘ پر لیبل لگانے کا اعلان

نیو یارک: (ویب ڈیسک) فیس بک نے کہا ہے کہ وہ اب اُن ممکنہ طور پر ضرر رساں پوسٹس پر لیبل لگانے شروع کرے گا جنھیں وہ ان کی ابلاغی قدر اور اہمیت کی وجہ سے اپنے پلیٹ فارمز سے نہیں ہٹاتا۔

گزشتہ روز اشیائے صرف بنانے والی کمپنی یونی لیور بھی اس فہرست میں شامل ہوگئی۔ کمپنی کی جانب سے اس کی وجہ امریکا میں  جانبدار انتخابی دور  کو قرار دیا گیا ہے۔ ڈوو صابن اور بین اینڈ جیریز آئس کریم بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم 2020 میں ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر تشہیر معطل رکھے گی۔

یونی لیور کا کہنا تھا کہ ان پلیٹ فارمز پر اس دور میں اشتہارات جاری رکھنے سے لوگوں اور معاشرے کی زندگیوں میں مثبت فرق نہیں پڑے گا۔ اگر ضروری ہوا تو ہم اپنے موجودہ مؤقف پر نظرِ ثانی کریں گے۔

اپنی تقریر میں فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے کمپنی کی جانب سے نفرت انگیز مواد کو ہٹانے کے ریکارڈ کا دفاع کیا۔

انھوں نے یورپی کمیشن کی رواں ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس کے مطابق فیس بک نے گذشتہ سال 86 فیصد نفر انگیز مواد کو ہٹایا جو کہ اس سے پہلے کے 82.6 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

مارک زکربرگ نے کہا کہ کمپنی ہمارے ملک کو درپیش مشکلات کے حقائق ان کے ہمارے معاشرے پر اثرات سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیاں سخت کر رہی ہے۔ کمپنی اُن اشتہارات پر بھی پابندی عائد کر دے گی جو مختلف گروہوں کو نسل یا ان کی امیگریشن کی وجہ سے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ تشدد پر اکسانے والے یا ووٹنگ پر اثرانداز ہونے والے مواد کو بھی ہٹا دیا جائے گا، بھلے ہی وہ کسی سیاستدان کی طرف سے کیوں نہ ہو۔

زکربرگ نے کہا کہ فرم کی جانب سے ان زمروں سے باہر موجود مواد پر  پریشان کُن  کا لیبل لگا دیا جائے گا۔ سال میں چند مواقع ایسے ہوتے ہیں جب ہم ایسے مواد کو بھی سائٹ پر رہنے دیتے ہیں جو ویسے تو ہماری پالیسیوں کے خلاف ہوتا ہے مگر ان سے عوامی مفاد ان سے ہونے والے نقصان کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر اوقات ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سیاستدان کی تقریر عوامی مفاد میں ہے اور جس طرح ذرائع ابلاغ سیاستدانوں کی باتیں رپورٹ کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں لگتا ہے کہ لوگوں کے لیے وہ چیز ہمارے پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب ہونی چاہیے۔ ہم جلد ہی ایسے مواد کو لیبل کرنا شروع کر دیں گے کیونکہ ہمیں وہ ابلاغی اعتبار سے قابلِ قدر لگتا ہے، تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے۔

سماجی رابطوں کی ایک اور اہم ویب سائٹ ٹوئٹر پہلے ہی اس سے ملتے جلتے اقدامات لے چکی ہے جن میں سیاستدانوں کی جانب سے اشتہارات پر پابندی اور کچھ اقسام کے مواد پر لیبلز اور وارننگ شامل ہیں۔ اس مواد میں صدر ٹرمپ کی ٹویٹس بھی شامل ہیں۔

ٹوئٹر کی اعلیٰ عہدیدار سارا پرسونیٹ نے کہا کہ ہم نے ایسی پالیسیاں اور پلیٹ فارم کی صلاحیتیں تیار کی ہیں جو عوامی بحث کا تحفظ کریں اور اس کا مقصد پورا کریں، اور ہمیشہ کی طرح ہم دیوار سے لگائے گئے گروہوں کی آوازوں کو بلند کرنے اور پھیلانے کے لیے پرعزم ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر دونوں کے شیئرز کی قدر میں سات فیصد سے زیادہ کی کمی ہوئی۔

بائیکاٹ کے چند منتظمین کا کہنا ہے کہ مارک زکربرگ کے وعدے کافی نہیں ہیں۔ کلر آف چینج کے صدر رشاد رابنسن نے کہا کہ مارک زکربرگ کے آج کے خطاب میں ہم نے فیس بک سے ہماری جمہوریت اور ہمارے شہری حقوق کو ہونے والے نقصان سے لڑنے کی ناکام کوشش دیکھی ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اگر وہ لاکھوں ڈالر کے اشتہارات روک لینے والے بڑے اشتہار دہندگان کو یہ جواب دے رہے ہیں تو ہم ان کی قیادت پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔

منافعے کی خاطر نفرت کو روکو کی مہم شہری حقوق کے امریکی گروہوں نے پولیس کی حراست میں امریکی شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد شروع کی تھی۔ اس نے انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی فیس بک پر اپنی توجہ رکھی ہے جس نے گذشتہ سال اشتہاری منافعے کی مد میں تقریباً 70 ارب ڈالر حاصل کیے تھے۔

منتظمین جن میں کلر آف چینج اور نیشنل ایسوسی ایشن فار ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ فیس بک اپنے پلیٹ فارم پر نسل پرست، پرتشدد اور ثابت شدہ جھوٹے مواد کو کھلی آزادی دیتا ہے۔

ویرائزن اور پیٹاگونیا سمیت 90 سے زائد کمپنیاں اس مہم میں شامل ہیں اور یہ فہرست سلیپنگ جائنٹس نامی ایک تنظیم نے تیار کی ہے جو بائیکاٹ کے منتظمین میں سے ہے۔

ای مارکیٹر کی تجزیہ کار نائیکول پیرین نے کہا کہ اس بائیکاٹ کے فیس بک پر مالی اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ وبا کے دوران اشتہار کے طریقوں میں بہت تبدیلی آئی ہے۔

مگر وہ کہتی ہیں کہ یونی لیور کا اعلان اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ضرورت سے زیادہ طویل عرصے اور زیادہ پلیٹ فارمز پر اشتہارات کو معطل کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صارفین کے پیدا کردہ مواد سے چلنے والے پلیٹ فارمز کے ساتھ یہ بنیادی مسئلہ ہے، کسی بھی ایسے پلیٹ فارم پر جہاں سیاسی اظہار کی آزادی ہو، وہاں تفریق و تقسیم متوقع ہوتی ہے۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.