مقبوضہ کشمیر کے 6 مقامات پر محرم کے جلوس، کئی افراد گرفتار

  مقبوضہ کشمیر کے 6 مقامات پر محرم کے جلوس، کئی افراد گرفتار کر لیے گئے
 محرم الحرام کے جلوس روکنے کے لیے  حکام نے سیکیورٹی مزید سخت کردی ہے
جہاں پہلے رکاوٹوں پر 3 اہلکار تک تعینات ہوتے تھے اب وہاں 10 اہلکار موجود 
سری نگر(کے پی آئی) ایک ماہ سے لاک ڈان کا شکار مقبوضہ کشمیر میں پابندی کو توڑتے ہوئے محرم الحرام کا جلوس نکالنے پر حکام نے سیکیورٹی مزید سخت کردی۔یاد رہے کہ نئی دہلی کی جانب سے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر کشمیر میں فوجی محاصرہ نافذ کردیا گیا تھا جو اب تک جاری ہے۔ پوری وادی میں اب تک ہر قسم کی مواصلات بند ہے۔اس سلسلے میں پولیس نے صبح سویرے ہی شہر کے مختلف علاقوں میں اعلانات کرنا شروع کردیے تھے جس میں شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی تھی اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اہلِ تشیع مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد دنیا بھر میں محرم کے مہینے میں مجالس کرتے اور جلوس نکالتے ہیں۔تاہم مقبوضہ کشمیر میں 1989 میں نئی دہلی حکومت کے خلاف اٹھنے والی  تحریک کے بعد سے اس قسم کے زیادہ تر جلوسوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی جس کا جواز یہ دیا گیا تھا کہ مذہبی جلوسوں کو بھارت مخالف جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ روز ہونے والے  ماتمی جلوسوں پر  فورسز نے حملہ کیا مظاہرین کو پولیس فوری طور پر گرفتار کر کے لے گئی اس کے علاوہ عزاداروں  پر تشدد کیا گیا جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے 6 مزید مقامات پر اسی طرح کے مظاہرے ہوتے ہوئے دیکھے۔اس سے قبل ہفتے کے روز 4 مقامی صحافی ایک احتجاجی مظاہرے کی کوریج کرنے میں زخمی ہوگئے جس میں 5 ہزار افراد شریک ہوئے، مذکورہ احتجاج کشمیر میں لاک ڈان کے بعد ہونے والا اسب سے بڑا اجتماع تھا۔ایک صحافی نے بتایا کہ اس کے کیمرے کا لینس ٹوٹ گیا جبکہ ایک صحافی پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس کے نشانات اس کے جسم پر واضح تھے۔اس بارے میں ایک صحافی کا کہنا تھا کہ اتوار کا محاصرہ 5 اگست کے بعد سے اب تک کا سب سے سخت محاصرہ تھا کیوں کہ جہاں پہلے رکاوٹوں پر 3 اہلکار تک تعینات ہوتے تھے اب وہاں 10 اہلکار موجود تھے۔اس کے علاوہ اس بات کی بھی توقع ہے کہ بھارتی حکومت ان پابندیوں میں عاشورہ کے روز یعنی منگل کو مزید سختی کردے۔
#/S
سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میںمسلسل 36ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے جبکہ محر م الحرام کے جلوسوں کو روکنے  کے لیے  سخت اقدامات کئے گئے ہیںسرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک اور اس سے ملحقہ علاقوں کے تمام داخلی راستے خاردار تاروں سے مکمل طورپربند کئے گئے ہیں اورشہریوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لیے بھارتی فورسز کی ایک بڑی تعداد ہر گلی کوچے میں تعینات ہے گزشتہ کئی روز سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ بھارتی فورسز محرم الحرام کے جلوسوں کو روکنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پولیس کی گاڑیاں لائوڈ سپیکروں پر لوگوں کو خبردارکررہی ہیں کہ وہ گھروںسے باہر نہ نکلیں۔ تمام بازار بند اورسڑکیں سنسان ہیں۔ وادی کشمیر میں انٹرنیٹ سروس اورموبائل فون مسلسل بند ہیں وادی کشمیر کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ مقبوضہ علاقے کی تمام سیاسی قیادت نظربند ہے جبکہ کرفیو اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بچوں کے لیے غذااور زندگی بچانے والی ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے اورہسپتالوں میں ادویات نایاب ہیں۔مریض سب سے زیادہ متاثر ہیں ۔پابندیوں کی وجہ سے مقامی صحافی کام نہیں کرپارہے اوروہ زمینی حقائق کو دنیا تک پہنچانے سے معذور ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں محرم میں نکالے جانے

والے مذہبی جلوس میں شریک شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں میں تصادم ہوا ہے۔۔ جلوس کے شرکا نے جب رکنے سے انکار کیا تو سکیورٹی اہلکاروں نے شرکا پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔جلوس میں شریک نوجوانوں  پر بھارتی فورسز نے پیلٹ گنوں سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے متعدد عزادار زخمی ہو گئے تھے تصادم کے زیادہ تر واقعات سرینگر کے علاقوں ریناواری اور بڈگام میں پیش آئے سکیورٹی حکام کی جانب سے جلوس کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ یہ جلوس پانچ کلومیٹر لمبے روٹ سے نکالا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اہلکاروں نے ہیلمٹ پہننے کے ساتھ ساتھ بلٹ پروف جیکٹس بھی زیب تن کی ہوئی تھیں۔