PTA urdu portal ’’پاکستان کی نیشنل رابطہ انفارمیشن پورٹل سروسز کا اردو میں آغاز‘‘

اسلام آباد :پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) اس امر سے عمومی آگاہ ہے کہ پاکستان میں براڈ بینڈ انٹر نیٹ سروسز کے فروغ اور پھیلاؤمیں بڑی رکاوٹ اس حوالے سے مواد کا مقامی مواد میں نہ ہونا ہے ۔اس اہمیت کے پیش نظر پی ٹی اے نے نیشنل رابطہ انفارمیشن پورٹل سروسز کے اردو ورژن www.pakistan.pkکا آغاز کر دیاہے تاکہ پاکستان کی عوام اور انٹر نیٹ صارفین اس سہولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ پورٹل پی ٹی اے کی جانب سے تیار کردہ ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے اندرون اور بیرون ملک موجود صارفین اردو میں ہر طرح کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔
اردو میں تیار کیا جانے والا یہ نیا ورژن بالکل انگریزی ورژن کے مطابق ہے جس کو آسان اردو میں ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ سہولت انٹر نیٹ استعمال کرنے والے ان صارفین کیلئے بہت مفید ثابت ہوگی جو کم پڑھے لکھے ہیں یا انہیں انگریزی زبان میں دشواری پیش آتی ہے ۔ اس اقدام کے نتیجے میں ایسے تمام صارفین حکومت ، انڈسٹری ، سیاحت، صحت ،ذرائع ابلاغ و مواصلات سے متعلق ہر قسم کی معلومات صرف ایک کلک پر حاصل کر سکتے ہیں ۔ پی ٹی اے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کو ہر سطح پر انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی(ICTs) کو استعمال میں لاتے ہوئے الیکٹرانک سروس ڈیلیوری (ای سروس)سے انتہائی آسانی کے ساتھ استفادہ حاصل کرنے کے مواقع حاصل ہوں یہ عمل ملک میں موجود سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب کرے گی جس کے نتیجے میں ملکی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اور ملکی ترقی کو فروغ حاصل ہو گا۔
اردو زبان میں نیشنل رابطہ انفارمیشن پورٹل کی تیاری کا بنیادی مقصد ایک ایسے ذریعے کا حصول ہے جہاں پر پاکستان سے متعلق معلومات تمام صارفین کیلئے صرف ایک کلک کے ساتھ آسان زبان میں دستیاب ہوں ۔اس کے نتیجے میں تمام ضروری معلومات عوام کیلئے تیز اور موثر انداز میں دستیاب ہونگی۔ مقامی طور پر ان معلومات تک رسائی کی وجہ سے انٹر نیشنل بینڈ ورتھ کی بچت بھی ہو گی ۔ پی ٹی اے کو یقین ہے کہ صارفین اس سہولت سے بھر پور انداز میں مستفید ہونگے ۔ یہ اقدام پی ٹی اے کی ان کاوشوں کا مظہر ہے جس کا مقصد لوگوں کو انٹر نیٹ سے قریب تر کرناہے ۔
اس معلوماتی ویب سائٹ کی تیاری میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ صارفین کو ویب سائٹ کے استعمال کیلئے فونٹ(FONT) ڈاؤن لوڈ نہ کرنا پڑے ۔

Leave a Reply