ایف پی سی سی آئی اور ایم یو ایس آئی اے ڈی ترکی کے مابین معاہدے پر دستخط

ایف پی سی سی آئی اور ایم یو ایس آئی اے ڈی ترکی کے مابین معاہدے پر دستخط

کراچی(ویب ڈیسک )فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تجارت اور کاروباری مواقع کی سہولت کاری کے لیے ایم یو ایس آئی اے ڈی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، اس موقع پرشیخ سلطان رحمان نائب صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ مفاہمت کی یہ یادداشت پاکستان اور ترکی کے مابین تجارت کو بحال اور مستحکم رکھنے کے لیے پہلا قدم ہے۔ایف پی سی سی آئی اور ایم یو ایس آئی اے ڈی کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب آج ویڈیو لنک کے ذریعہ منعقد ہوئی۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ایم یو ایس آئی اے ڈی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ ایم یو ایس آئی اے ڈی ایکسپو 2020 استنبول ترکی میں ٹویاپ کنونشن اور کانگریس سینٹر میں منعقد کیاجارہا ہے۔عبد الرحمن کین، صدر ایم یو ایس آئی اے ڈی نے اپنے تعارفی خطاب میں کہا کہ ایم یو ایس آئی اے ڈی ایکسپو ہر سال زیادہ سے زیادہ نمائش کنندگان اور صنعتوں کے لیے کشش کا باعث ہوتی ہے ، اور تجارت کو فروغ دینے میں معاون ہے۔ عالمی رجحانات کی ترویج اور جدت طرازی کے باعث ایم یو ایس آئی اے ڈی ایکسپو کو پوری دنیا سے طلب اور تعاون حاصل ہوتا ہے۔ ایم یو  ایس آئی اے ڈی ایکسپوتمام صنعتوں کے نمائش کنندگان کو خوش آمدید کہتی ہے اور نیٹ ورکنگ ایونٹس ، پینل ڈسکشنز ، اور B2B بزنس میٹنگز کی میزبانی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی پاکستان کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے سے دونوں ممالک کے نمائش کنندگان اور مہمانوں کے لیے تجارت کے منفرد مواقع میسر آئیں گے۔شیخ سلطان رحمان نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی، پاکستان میں تجارت اور صنعت کا ایک اعلی ادارہ ہونے کے ناطے، پاکستان کی عالمی تجارت کے فروغ میں مصروف عمل ہے۔انہوں نے ایم یو ایس آئی اے ڈی کے ساتھ مفاہمت کی  یادداشت پر دستخط کرنے پر اظہار تشکر کیا کیونکہ عالمی معاشی اور تجارتی حرکیات ظاہر ہوتے ہوئے نئے چیلنجوں کی وجہ سے تبدیل ہو رہی ہیں خاص طور پر کو وڈـ19 کی وبا کے پھیلنے کے بعد۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مفاہمت کی یادداشت ان رکاوٹوں کو دور کرے گی جو ہمارے معاشی اور تجارتی تعلقات کو متاثر کررہے ہیں۔ نمائشوں کے انعقاد ، بی ٹو بی میٹنگوں اور تجارتی وفود کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے اس سے دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ ملے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مفاہمت کی یادداشت سے پاکستان اور ترکی کے مابین معاشی سرگرمیوں میں معنی خیز اور خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو قریب لانے میں مدد ملے گی اور تجارتی پھیلاؤ کے ذریعے معاشی خوشحالی کی راہ ہموار ہوگی۔

 

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.