او جی ڈی سی ایل کی مالی سال 2020 میں نیٹ سیلز مبلغ244.856ارب روپے رہی

او جی ڈی سی ایل نے جون 2020 کو ختم ہونے والے مالی سال کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا

آسلام آباد (ویب ڈیسک )

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ(او جی ڈی سی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس مورخہ 28ستمبر2020کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں 30جون 2020کو ختم ہونے والے مالی سال کے مالیاتی نتائج کی منظوری دی گئی۔نتائج کے مطابق او جی ڈی سی ایل کی اس مالی سال میں نیٹ سیلز مبلغ244.856ارب روپے رہی جبکہ بعد از ٹیکس منافع 100.081ارب روپے رہاجبکہ مالی سال میں فی شیئر آمدنی 23.27روپے رہی۔علاوہ ازیں آج کے ہونے والے بورڈ کے اجلاس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 2.50روپے فی شیئر یعنی 25فیصد منافع دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ پہلے سے ادا شدہ مبلغ 4.25 روپے فی شیئر کے عبوری منافع یعنی 42.5فیصد کے علاوہ ہے۔ مذکورہ منافع کے حقدار ایسے شیئر ہولڈرز ہوں گے جن کے نام ممبران کے رجسٹر میں بدھ 21اکتوبر2020تک موجود ہوں گے۔ کمپنی کی شیئر ٹرانسفر بکس جمعرات 22اکتوبر2020سے بدھ 28اکتوبر2020تک(دونوں دن شامل ہوں گے) بند رہیں گی۔
مذکورہ مالی سال کے دوران میں او جی ڈی سی ایل نے 42.983ارب روپے ٹیکس کی مد میں جبکہ 27.626ارب روپے رائیلٹی کی مد میں قومی خزانے میں ادا کئے اور کمپنی نے ایکسپلوریشن اور ڈویلپمنٹ کے حوالے سے سسمک اور ڈرلنگ کی سرگرمیوں کے شعبے میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس سال 25نئے کنویں کھودے گئے جبکہ گزشتہ برس سے اگر ان کا موازنہ کیا جائے تو ان کی تعداد 16تھی۔ ایکسپلوریشن کے میدان میں کاوشوں کے نتیجے میں تیل و گیس کے پانچ ذخائر بھی دریافت کئے گئے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کے شعبہ میں ریکارڈ اضافہ کرنے پر کمپنی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا۔پروڈکشن کے میدان میں 14کنوؤں کی بدولت اس میں اضافہ ممکن کیا گیا جبکہ اس سلسلے میں الیکٹریکل پمپ(ای سی پی) نے بھی پروڈکشن میں اضافے کیلئے اہم کردار ادا کیاجس کے تناظر میں بہتر نتائج اور استعداد کیلئے کمپنی جدید ٹیکنالوجی کو جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔ تیل و گیس کی ان نئی دریافتوں سے ناصرف او جی ڈی سی ایل بلکہ ملک کے ہائیڈرو کاربن ریزروز میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور قومی خزانے میں بھی تیل کی درآمد کی مد میں خاصی بچت ہوگی۔تیل وگیس کی پیداوار میں یہ اضافہ صارفین اور صنعت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.