تجزیاتی ٹیکس ڈائریکٹری 2018 …. شماریاتی اعدادوشمار پر یکسر عدم اعتماد کا اظہار

آغا شہاب کاایف بی آر کی جانب سے تجزیاتی ٹیکس ڈائریکٹری 2018 میں انکشاف کیے گئے شماریاتی اعدادوشمار پر یکسر عدم اعتماد کا اظہار

ایف بی آر نے حال ہی میں انکم ٹیکس کی بنیاد پر تجزیاتی ٹیکس ڈائریکٹری 2018  جاری کی تھی جس میں اس نے کچھ دعوے کیے تھے جو جزوی معلومات پر مبنی تھے

اس سے مختلف شہروں سے انکم ٹیکس وصولی کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوا ،کچھ اہم معلومات کو پس پردہ ڈال دیا گیا جس کے ذریعے کوئی بھی اس ڈیٹا کی تصدیق کرسکتا تھا

کراچی(ویب ڈیسک )کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے تجزیاتی ٹیکس ڈائریکٹری 2018 میں انکشاف کیے گئے شماریاتی اعدادوشمار پر یکسر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے حال ہی میں انکم ٹیکس کی بنیاد پر تجزیاتی ٹیکس ڈائریکٹری 2018  جاری کی تھی جس میں اس نے کچھ دعوے کیے تھے جو جزوی معلومات پر مبنی تھے جس سے مختلف شہروں سے انکم ٹیکس وصولی کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوا ہے جبکہ کچھ اہم معلومات کو پس پردہ ڈال دیا گیا جس کے ذریعے کوئی بھی اس ڈیٹا کی تصدیق کرسکتا تھا۔صدر کے سی سی آئی نے کہا کیا کہ اس رپورٹ میں کراچی سے انکم ٹیکس کی وصولی 209 ارب روپے بتائی گئی ہے جبکہ ضلعی لحاظ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کی حصہ داری 186.3 ارب روپے ہے جس میں سے کراچی کا ضلع وسطی 9.06  ارب روپے، ضلع شرقی34.09   ارب روپے، ضلع جنوبی 114.23 ارب روپے اور ضلع غربی 28.89 ارب روپے کا حصہ دار ہے جو واضح طور پر23ارب روپے کے تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ بھی واضح نہیں کہ کراچی کے مجموعی طور پر  209 ارب روپے حصے میں ضلعی لحاظ سے دیئے گئے اعدادوشمار شامل ہیں یا نہیں۔ انکم ٹیکس وصولی کے اعدادوشمار میں اس بد نظمی نے کاروباری حلقوں میں شدید شک و شبہات پیدا کردیے ہیں جو اسے کراچی کے خلاف ایک اور سازش قرار دے رہے ہیں۔اسی طرح انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبے کے لحاظ سے حصہ داری صرف فیصد کی صورت میں سامنے آئی ہے اور دعوؤں کی توثیق کرنے کے لیے دستاویز میں کہیں بھی مجموعی مالیت ظاہر نہیں کی گئی۔یہاں تک کہ بڑی مارکیٹوں سے انکم ٹیکس وصولی کے اعداد شمار کو عیاں کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کی گولڈ مارک، کھڈا مارکیٹ، ملیر، کورنگی، بنارس اور بحریہ ٹاؤن سمیت کئی اہم مارکیٹوں کو ان اعداد و شمار میں شامل ہی نہیں کیا گیا جس نے غلط تاثر مل رہا ہے کہ دوسرے شہروں کے مقابلے میں کراچی سے ٹیکس وصولی کم ہے۔صدر کے سی سی آئی نے مزید کہا کہ شہروں کے منتخب کردہ مارکیٹوں کے اعداد و شمار صرف 25.7 فیصد فائلرز پر مبنی ہے یعنی 1,606,424غیر تنخواہ دار افراد اور اے اوپی فائلرز میں سے صرف413,859فائلرز کی تفصیلات کی بنیاد پر ڈیٹا تشکیل دیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہر کے حجم اور حصہ داری کا غلط تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر نے جو تجزیاتی اعداد و شمار ظاہر کیے ہیں وہ صرف ایک نمبر گیم ہے اور یہ کراچی کی حصہ داری کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔مذکورہ دستاویز کے مطابق کراچی سے 209 ارب روپے کے انکم ٹیکس کی وصولی اسلام آباد سے 204 ارب روپے کی وصولی کے بہت قریب ہے جو کراچی میں بڑے پیمانے پر صنعتی و معاشی سرگرمیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ناممکن ہے۔ہم ایف بی آر کے تجزیے سے کسی صورت بھی متفق نہیں ہیں کیونکہ کراچی ایک پورٹ سٹی ہے جہاں اکثریت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مرکزی دفاتر، بینکوں، ڈی ایف آئی اور انشورنس کمپنیوں وغیرہ کے مرکزی دفاترقائم ہیں جبکہ سیکڑوں کمرشل مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور پلازہ وغیرہ بھی سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں جن کی وجہ سے یہ شہر ملک کا سب سے بڑا صنعتی و تجارتی مرکز ہے۔آغا شہاب نے کہاکہ اسلام آباد صرف 10لاکھ آبادی پر محیط ہے اورصنعتی سرگرمیاں نہ ہونے برابر ہیں پھر اسلام آباد کا مقابلہ کراچی کے ساتھ کیسے کیا جاسکتا ہے جس کی مجموعی آبادی تقریباً 2کروڑ ہے جہاں 7صنعتی زونز میں ہزاروں صنعتی یونٹس پیداواری سرگرمیاںجاری رکھے ہوئے ہیں جو کراچی کو دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک بنا تا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس طرح کی قابل افسوس کوششیں کی گئیں جس کے خلاف کے سی سی آئی نے بڑے پیمانے پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ اسے مکمل طور پر مسترد کردیا تھا اور وقتاً فوقتاً یہ بات ثابت ہوئی کہ کراچی قومی خزانے میں 65 فیصد کے قریب ریونیو کا سب سے بڑا حصہ دارہے۔جس کو وفاقی وزیر اسد عمر اور بہت سے ان جیسے فیصلہ سازوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔آغا شہاب نے خبردار کیا کہ کراچی قومی خزانے میں ہمیشہ سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر رہا ہے اس لیے ہمیں خدشہ ہے کہ ایف بی آر کے اعدادوشمار کو بڑی چالاکی کے ساتھ حتمی شکل دی گئی ہے اور یہ کراچی کی اہمیت کو کم کرنے کی ایک سازش ہے جس کو قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف ہر دستیاب پلیٹ فارم پر بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی معاشی ماہرین کی پوری ٹیم سے درخواست کی کہ وہ اس سنگین معاملے کاجائزہ لیں اور ایف بی آر کو اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تجزیے کو جاری کرنے پر انکوائری کی جائے۔اس کے علاوہ ریونیو جمع کرنے والے اتھارٹی کو فوری طور پر من گھڑت تجزیے کو واپس لینے اور ایک نظرثانی شدہ ورژن جاری کرنے کی ہدایت کی جائے جس میں کراچی کے بارے میں جامع اوردرست حقائق و اعداد و شمار موجود ہوں۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.