ایف بی آر، گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے مالکان، آٹو پارٹس مینو فیکچرزطلب؛ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار

اسلام آباد (ویب ڈیسک)

جن ماڈلز میں تکنیکی خرابیاں ہیں ان گاڑیوں کوفوری طور پرری کال کیاجائے ،قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدا وارکی ہدایت

انسانی جان کی سیفٹی کویقینی بنایاجائے اس پر کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں ہوسکتاہے ،چیرمین کمیٹی

کمپنیاں پاکستان میں اپنے مینوفیکجرنگ اور معیار کوبہتر نہیں بناتی تو مجبورا پرانی گاڑیوں کی درآمد کی شفارش کرنے پڑے گی، کمیٹی

 ایس آر او 693 کے تحت آٹو موبائل پارٹس کے حوالے سے عملدرآمد نہیں کیا جارہا،نعمان وزیر

ملک میں 95 فیصد آٹو پارٹس بن سکتے ہیں مگرمنافع خوری پر زور دیاجاتا ہے ،ستارہ ایاز، کلثوم پروین ، محمد ایوب

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدا وارنے کاریں بنانے والی کمپنیوں کوہدایت کی ہے کہ جن ماڈلز میں تکنیکی خرابیاں ہیں ان گاڑیوں کوفوری طور پرری کال کیاجائے ،انسانی جان کی سیفٹی کویقینی بنایاجائے اس پر کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں ہوسکتاہے ،اگرمقامی کمپنیاں پاکستان میں اپنے مینوفیکجرنگ اور معیار کوبہتر نہیں بناتی تو مجبورا ہمیں پرانی گاڑیوں کی درآمد کی شفارش کرنے پڑے گی ۔اگلے اجلاس میں کمیٹی نے ایف بی آر،گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے مالکان، آٹو پارٹس مینو فیکچرز کوطلب کرلیا،وزارت سے پرائس ٹرانسفرنگ پررپورٹ کرلی گئی ۔ ارکان نے کہاکہ ایس آر او 693 کے تحت آٹو موبائل پارٹس کے حوالے سے عملدرآمد نہیں کیا جارہا،ملک میں 95 فیصد آٹو پارٹس بن سکتے ہیں مگرمنافع خوری پر زور دیاجاتا ہے ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدا وار کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر احمد خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میںسینیٹر بہرہ مند خان تنگی کے 4فروری 2020کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے ملک میں اسمبل کی جانے والی کاروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ، سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے 4فروری 2020کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی تفصیلات ، سینیٹر کلثوم پروین کے 13جنوری 2020کو پیش کئے گئے موشن برائے کاروںاور دیگر گاڑیوں کی سیل میں کمی ، سینیٹر سراج الحق کے 5جون 2020کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے اسٹیل مل ملازمین کی تفصیلات، سینیٹر نعمان وزیر خٹک کے 26اگست 2020کو اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے پاکستان میں اسمبل کئے جانے والی کاروں کے معیار کے  علاوہ نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر احمد خان نے کہا کہ آٹو موبائل انڈسٹری انتہائی اہمیت کی حامل ہے ملک میں آٹو موبائل انڈسٹری کو فروغ دے کر نہ صرف آمدن حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ قوم کو بھی موثر جدید ٹیکنالوجی کی حامل آٹو موبائل فراہم کی جا سکتی ہے جس سے عوام کو ریلیف میسر ہو سکتاہے مگر افسوس کی بات ہے کہ ملک میں عرصہ دراز سے بے شمار کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی مگر جدید پلانٹ نہیں لگائے گئے جس سے ملک وقو م کو فائدہ ہو سکے۔  انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں جو چار پوائنٹس اٹھائے گئے تھے ان کے جوابات وزارت صنعت وپیدا وار نے نہیں دیئے جس پر سیکرٹری نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ان چیزوں کا خیال رکھا جائے گا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سینیٹر بہرہ مند خان تنگی اور سینیٹر نعمان وزیر خٹک کے ایجنڈے کو کلب کر کے جائزہ لیتے ہیں ۔ سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ ایس آر او 693 کے تحت آٹو موبائل پارٹس کے حوالے سے معاملات ہیں جن پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ۔ انہوں نے کہا کہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ کمپنیاں یہاں پلانٹ لگانے کی بجائے آٹو موبائل پارٹس بھی باہر سے ایمپورٹ کرتی ہیں جو آسانی سے بن سکتے ہیں ۔آئندہ اجلاس میں آٹو پارٹس مینو فیکچرز کو بھی بلایا جائے ۔ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے کہا کہ پاکستان میں کوالٹی کم اور قیمت زیادہ والی گاڑیاں بن رہی ہیں۔اون منی دن بدن بڑھتی جارہی ہے جس سے صارفین پر ظلم ہورہا ہے۔سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ پاکستان میں سیفٹی ، آلودگی اور کوالٹی کے معیار کو گاڑیوں میں لاگو کرنا ہوگا۔ان کی جانچ پڑتال تھرڈ پارٹی ذریعے ہونا ضروری ہے۔گاڑیاں بنانے والوں کے لئے اس ضمن میں روڈ میپ متعین ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو آئندہ اجلاس میں بلایا جائے کہ ان کمپنیوں نے ایس آر او 693 کی کتنی خلاف ورزی کی ہے ۔ملک میں 95 فیصد آٹو پارٹس بن سکتے ہیں مگر یہاں پلانٹ لگانے کی بجائے منافع خوری پر زور دیاجاتا ہے ۔ کمیٹی کو پرائس ٹرانسفرنگ پر بھی رپورٹ دی جائے ۔جس پر کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام کو طلب کر لیا ۔کمیٹی کو ہنڈا کمپنی کے نمائندہ نے بتایا کہ گزشتہ چھ سال میں ہم نمبرون ٹیکس پیئر ہیں۔ ہماری کاروں میں 50 سے 65 فیصد لوکل پارٹس استعمال ہوتے ہیں۔ہمارا اکثریتی خام مال درآمد ہوتا ہے۔چیئرمین کمیٹی احمد خان کہا کہ ناقص ٹائروں کی وجہ سے زیرو میٹر گاڑی میں نئے ٹائر لگوائے جاتے ہیں۔سینیٹر ڈاکٹرآصف کرمانی کہا کہ مڈل کلاس لوگ اپنا زیور بیچ کر سامان گروی رکھ چھوٹی گاڑی لیتے ہیںمگرگاڑیوں کی کوالٹی درست نہیں منافع لیتے ہیں تو کوالٹی بھی دیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ایک اچھی کارکی قیمت 34 لاکھ ہے جس کا معیار پاکستان کی گاڑیوں سے ہزار گنا بہترہے ۔ پاکستان میں45 لاکھ کی کار ملتی ہے جس کا معیار دیگر ممالک کی گاڑیوں سے کافی پیچھے ہے۔سوزوکی مہران ایک بے رنگ خط کی طرح ہے اور آلٹو کی قیمتیں اتنی بڑھا دی گئی ہیں کہ عام انسان خرید نہیں سکتا ۔ سیٹ بیلٹ باندھیں تو سیٹیں پھٹ جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بڑی گاڑیوں کے چلتے ہوئے اسٹرینگ جام ہوجاتے ہیں اور سیفٹی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔جب تک ری کال کی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی بہتری ممکن نہیں ہے ۔سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ عمران خان سے گزارش ہے کہ گاڑیوں والے مافیا کے خلاف کاروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ 25 لاکھ کی گاڑی لینے پر 5 لاکھ اون دینا پڑتا ہے ۔ کار کمپنیاں قوم کو لوٹ رہی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں رواں سال گاڑیوں کی طلب میں کمی ہوئی ہے۔گاڑی کی قیمت پر 36 فیصد ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے ۔کمیٹی اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ سی ای او سٹیل ملز نے کہا کہ اسٹیل ملز کی ہزاروں ایکٹر زمین مختلف اداروں کو دی گئی ہے۔جو اداروں کے پاس زمینیں ہیں وہاں اگر سبزی بھی کاشت کر لوں تو گارڈز کی تنخواہیں نکل آئیں۔منیجمنٹ کے طور پر اسٹیل ملز کے حالات خراب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیڈٹ کالج کا پرنسپل ڈبل ایم اے کو لگایا اور اس نے کوئی ورکشاپ ڈیزائن نہیں کی ۔اس کو نکالا گیا اور وہ عدالت میں چلا گیا عدالت نے دوبارہ تعینات کردیا۔میں کیسے ملازمین کو نکال دوں۔کمیٹی اجلاس میں الیکٹرک وہیکل پالیسی پر کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ای سی سی نے الیکٹرک وہیکل پالیسی پر کمیٹی بنائی تھی۔کابینہ نے بھی2 اور 3 پہیوں کی ایچ سی وی پالیسی کی منظوری دی۔ اگلے ہفتے انٹر مسٹیریل میٹنگ بھی ہوگی جس میں فور ویلر پالیسی کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہیکل کو فروغ دینے کیلئے بے شمار ڈیوٹیاں کم کی گئی ہیں تاکہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکے ۔ سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ دنیا بھر میں ای ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے سبسڈی دی جا رہی ہے موجودہ حکومت کو بھی سبسڈی دینی پڑے گی تاکہ بہتری لائی جا سکے ۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز ڈاکٹر آصف کرمانی ، کشو بائی، ستارہ ایاز، کلثوم پروین ، محمد ایوب ، سیمی ایزدی ، میاںمحمد عتیق شیخ اور نعمان وزیر خٹک  کے علاوہ سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار، سی ای او پاکستان اسٹیل ملز ، سی ای او انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ،سی ای اوای ڈی بی کے علاوہ ٹیوٹا،ہنڈا کمپنیوں کے نمائندہ نے شرکت کی ۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.