حکومت کے دو سال میں قرضوں اور واجبات میں 14.43 ٹریلین روپے کا اضافہ

 پی ٹی ای   حکومت کے دو سال میں  قرضوں اور واجبات 4.43 ٹریلین روپے کا اضافہ

قرضوں کے حوالے سے ایکٹ آف پارلیمنٹ کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے، سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 86.1 فیصد ہو گیا

 سال 2024ء تک سرکاری قرضہ میں تقریباً 78 فیصد کمی متوقع ہے،حکومت کو شدید بحرانی مائیکرواکنامک صورتحال ورثے میں ملی،مشیر خزانہ

غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث صورتحال میں مزید ابتری آئی ،پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور افراط زر کے دبائو میں اضافہ ہوا

 حکومت مالی نظم و ضبط اور معاشی استحکام اور شرح نمو میں اضافے کے لیے ضروری  اقدامات اٹھا رہی ہے، قومی اسمبلی میںشازیہ مری کے سوال پر تحریری جواب

 اسلام آباد(ویب ڈیسک )تحریک انصاف کی حکومت کے دو سال میں قرضوں اور واجبات میں 14.43 ٹریلین روپے کا اضافہ ہو گیا قرضوں کے حوالے سے ایکٹ آف پارلیمنٹ کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے، سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 86.1 فیصد ہو گیا ہے تفصیلات جمعرات کو قومی اسمبلی میں پیش  کی  گئی شازیہ مری کے سوال کے تحریری جواب میں مشیر خزانہ کی طرف سے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں 10.33 ٹریلین روپے اور 4.10 ٹریلین روپے کے کل قرضہ اور واجبات میں اضافہ ہوا جو جی ڈی پی کے حجم سے تجاوز کر گئے ہیں مالی سال 2020ء کے اواخر تک سرکاری قرضہ جی ڈی پی  کے فیصد تھا واجبات کا حجم مالی سالی 2020ء میں جی ڈی پی کے 106 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے مشیر خزانہ نے کہا کہ سال 2024ء تک سرکاری قرضہ میں تقریباً 78 فیصد کمی متوقع ہے۔مشیر خزانہ کے مطابق حکومت کو شدید بحرانی مائیکرواکنامک صورتحال ورثے میں ملی جس میں  بہت زیادہ مالی خسارے اور بڑے پیمانے پر قرضے شامل ہیں۔غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث صورتحال میں مزید ابتری آئی جس کے باعث پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور افراط زر کے دبائو میں اضافہ ہوا جس کے نتیجہ میں سخت مالیاتی پالیسی کا موقف اپنایا گیا جس سے نمایاں طور پر قرضے کی سطح اور سروسنگ لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم حکومت نے بڑے پیمانے پر ریونیو کی تحریک،رواں اخراجات میں مناسب حد تک کمی اور قرضے کی بہترین / پیداواری استعمال کے ذریعے ان چیلنجز کو حل کرنے کے لیے مختلف پالیسی اقدامات اٹھا رہی ہیں۔مشیر خزانہ نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ حکومت مالی نظم و ضبط اور معاشی استحکام اور شرح نمو میں اضافے کے لیے ضروری  اقدامات اٹھا رہی ہے۔حسبہ،حکومت نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مستحکم اقدامات جیسا کہ ٹیکس بیس میں اضافہ،پبلک سیکٹر انٹرپرائز(پی ایس ایز) میں بہتری اور مالی خسارے میں کمی کے ذریعے معیشت کو بحال کرنے کا آغاز کیا جس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ سوشل سیفٹی نیٹ اور ترقیاتی اخراجات کو نہ صرف تحفظ دیا جائے بلکہ اس میں مناسب حد تک اضافہ ہو جب اقتصادی نمو میں بہتری اور مالی خسارے میں کمی آئے گی اضافی قرضے پر انحصار میں بھی کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات سے پہلے ہی بہتر نتائج آنے شروع ہو گئے ہیں اور وفاقی حکومت کو مالی سال 2019ء کے دوران جی ڈی پی کے4.1 فیصد کے مقابلے میں مالی سال 2020ء کے دوران جی ڈی پی کے 2.4 فیصد پرائمری خسارے تک مدد فراہم کی ہے۔qa/aa/nsr

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.