جعلی بینک اکائونٹس  کیس،ڈیڑھ سالہ تحقیقات  کے دوران 43مقدمات درج کرنے کا انکشاف

جعلی بینک اکائونٹس  کیس،ڈیڑھ سالہ تحقیقات  کے دوران 43مقدمات درج کرنے کا انکشاف

جعلی اکائونٹس کیسز میں 10ریفرنسز دائر کر دیئے گئے ہیں، 12تحقیقات اور21انکوئری کے مرحلہ میں ہیں

پلی بارگین کے تحت اب تک23ارب روپے برآمد  ، 64ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے  ، 12ملزمان کو مفرور قراردیا گیا

آنے والے دنوں میں جعلی بینک اکائونٹس کیسز کے مزید ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کر دئیے جائیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے تاریخ کے کرپشن کے سب  سے بڑے مقدمہ جعلی بینک اکائونٹس  کیس کی گذشتہ  ڈیڑھ سالہ تحقیقات  کے دوران 43مقدمات درج کرنے کا انکشاف ہواہے۔ جعلی اکائونٹس کیسز میں 10ریفرنسز دائر کر دیئے گئے ہیں، 12تحقیقات اور21انکوئری کے مرحلہ میں ہیں۔ جعلی اکائونٹس کیسز کے مرکزی ملزم سابق صدر اور پاکستان پیپلز پا رٹی کے شریک چیئرمین  آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو قراردیا گیا ہے، اب تک ان کیسز میں آصف علی زرداری،  سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف،  سابق وزیر اعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی سمیت 186ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے جبکہ ان کیسز میں آصف علی زرداری، ڈاکٹرفریال تالپور،انورمجید، عبدالغنی مجید، حسین لوائی سمیت 52ملزمان کو گرفتار کیا گیا، پلی بارگین کے تحت اب تک23ارب روپے برآمد کئے جاچکے ہیں۔ 64ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے جبکہ 12ملزمان کو مفرور قراردیا گیا ہے۔ جعلی بینک اکائونٹس کے18ملزمان پلی بارگین کے  ذریعہ اعتراف جرم کر چکے ہیں اور ان کو باقائدہ مجرم قراردے کر ان کے مقدمات کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ آصف علی زرداری کے خلاف چار کرپشن ریفرنسز دائر ہیں، نواز شریف کے خلاف ایک ریفرنس دائر ہے، سید یوسف رضا گیلانی اور فریال تالپور کے خلاف بھی ایک ایک کرپشن ریفرنس دائر کیا گیا ہے جبکہ اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انور مجید اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف(9)  کرپشن ریفرنسز دائر کئے جاچکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں جعلی بینک اکائونٹس کیسز کے مزید ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کر دئیے جائیں گے ۔اب تک نیب کی تحقیقات میں جعلی بینک اکائونٹس کیس میں کرپشن کا تخمینہ 200ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ZS

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.