فیس بک کی انتہا پسند بی جے پی اور مودی نواز پالیسیوں پر تشویش ہے، سید امین الحق

فیس بک کی انتہا پسند بی جے پی اور مودی نواز پالیسیوں پر تشویش ہے، سید امین الحق

کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی تشہیر پر فیس بک کو سارے قواعد یاد آجاتے ہیں

انتہا پسند بی جے پی اور ہٹلر مزاج مودی کی نفرت زدہ پالیسیاں نظرنہیں آتیں،وفاقی وزیر آ ئی ٹی

آئٹم نمبر…62

اسلام آباد(ویب ڈیسک )وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے فیس بک انتظامیہ کی بھارتی انتہا پسندحکمران جماعت بی جے پی اور نریندر مودی  نواز پالیسیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی تشہیر پر فیس بک کو سارے قواعد یاد آجاتے ہیں،انتہا پسند بی جے پی اور ہٹلر مزاج مودی کی نفرت زدہ پالیسیاں نظرنہیں آتیں۔ جمعرات کوجاری کردہ اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر آ ئی ٹی سید امین الحق نے کہا کہ وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں فیس بک کے کچھ موجودہ اور سابق ملازمین کے حوالے سے کیا گیا دعوی اس لیئے حقیقت پر مبنی قرار دیا جاسکتا ہے کہ فیس بک جیسے اہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے بی جے پی رہنمائوں اور کارکنوں کی نفرت انگیز پوسٹوں اور فرقہ وارانہ مواد کو مسلسل نظرانداز کیا ہے ۔وفاقی وزیرسید امین الحق نے کہا کہ وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے فیس بک پر لگائے جانے والے الزامات نے اس کے غیر جانبداری کے دعوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اب مختلف بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس  پر اعتراضات اٹھا دیئے ہیں کہ فیس بک آر ایس ایس اور بی جی پی کیلئے نرم  گوشہ رکھتی ہے، جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ 5 اگست 2019  کو نریندر مودی  کی جانب سے آرٹیکل 370 کے نفاذ اور  مقبوضہ وادی کشمیر کو ایک جیل میں تبدیل کرنے کے ظالمانہ اور غیر انسانی  عمل کے خلاف پوری دنیا میں  انسان دوست تنظیموں اور رہنماں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا لیکن جب سوشل میڈیا پر صارفین نے ان بھارتی مظالم پر آوازیں  بلند کیں تو فوری طور پر فیس بک انتظامیہ نے اس پر ” نفرت آمیز پوسٹ” کا ٹیگ لگا کر ان اکانٹس کو معطل کردیا ۔وفاقی وزیر آئی ٹی نے کہا کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی تشہیر پر فیس بک کو سارے قواعدو ضوابط یاد آجاتے ہیں لیکن  جب بات ہو بھاری سرمایہ کاری اور علاقائی دفاتر میں انڈین ملازمین کی اکثریت کی تو فیس بک انتظامیہ ان مالی مفادات کی وجہ سے سارے اخلاقی اقدار اور قواعد کو فراموش کرکے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلیتی ہے یہی پالیسی اسرائیل کے مظالم پر خاموشی اور ان کے خلاف بولنے والوں کی معطلی کی صورت میں بھی سامنے آتی ہے۔سید امین الحق نے سوال کیا کہ  فیس بک انتظامیہ بتائے کہ انتہا پسند بی جے پی اور ہٹلر مزاج مودی کی نفرت زدہ پالیسیاں انھیں  کیوں نظرنہیں آتیں۔۔؟اگر فیس بک نفرت آمیز پوسٹوں کے خلاف ہے تو نریندر مودی جیسے انسان دشمن سے نزدیکیاں کیسی۔۔!فیس بک انتظامیہ کی کشمیریوں پر مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں سے ناپسندیدگی کیوں ۔؟فیس بک واضح کرے کہ پاکستانی اور بھارتی صارفین کیلئے اس کی پالیسیوں میں فرق کیوں۔!وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی  نے مزید کہا کہ فیس بک انتظامیہ کی وضاحتیں اس کے عمل کے بالکل برخلاف ہیں، یہ واضح ہوگیا کہ فیس بک  غیر جانبدار نہیں رہا ہے اور اسے خود پر سے یہ داغ ہٹانے کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے، وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کے 25 کروڑ سوشل میڈیا صارفین کی وجہ سے فیس بک انتطامیہ کے امتیازی رویئے پر انھیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان نہایت تیزی سے ڈیجیٹل ورلڈ کی وسیع مارکیٹ بن رہا اسیکسی بھی صورت میں  نظرانداز کرنے والے نقصان میں رہیں گے وفاقی وزیر آئی ٹی نے واضح کیا کہ پاکستانی صارفین کے مفادات کے تحفظ کیلئے کسی اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.