قائمہ کمیٹی کا ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ کے ملازمین کی پنشن پر قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار

پنشنرز کو 2011سے ان کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے جو کہ سراسر نا انصافی ہے ارکان کمیٹی

 کمیٹی کی سفارشات کے باوجود پی ٹی ای ٹی تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے،چیرپرسن

چیئر پرسن نے ادارے کے موقف کو یکسر مستردکردیا ٹرسٹ کا مقصد پنشنرز کے مسائل کو حل کرنا اور ان کے مفادات کا تحفظ ہے،روبینہ خالد

اسلام آباد(ویب ڈیسک)

سینیٹ قائمہ کمیٹی نے ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ کے ملازمین کی پنشن پر قائمہ کمیٹی کی خصوصی رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پنشنرز کو 2011سے ان کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے جو کہ سراسر نا انصافی ہے،کمیٹی کی سفارشات کے باوجود پی ٹی ای ٹی تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے،چیرپرسن روبینہ خالد نے نے ادارے کے موقف کو یکسر مستردکرتے ہوئے کہاکہ ٹرسٹ کا مقصد پنشنرز کے مسائل کو حل کرنا اور ان کے مفادات کا تحفظ ہے۔پیرکو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنا لوجی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین پرسن سینیٹر روبینہ خالد کی سربراہی میں پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ کمیٹی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ کی جانب سے ملازمین کی پنشن سے متعلق قائمہ کمیٹی کی خصوصی رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ پنشنرز کو 2011سے ان کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے جو کہ سراسر نا انصافی ہے اور کمیٹی کی سفارشات کے باوجود پی ٹی ای ٹی تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔ کمیٹی کی چیئر پرسن سینیٹر روبینہ خالد نے ادارے کے موقف کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ ٹرسٹ کا مقصد پنشنرز کے مسائل کو حل کرنا اور ان کے مفادات کا تحفظ ہے لیکن بد قسمتی سے پی ٹی ای ٹی پنشنرز کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کا کیا جواز بنتا ہے۔کمیٹی نے مختلف عمارتیں کرایہ پر دینے کے حوالے سے لیز ایگریمنٹ اگلے اجلاس میں پیش کرنے کے حکامات جاری کئے کمیٹی کی چیئرپرسن نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو انسانی حقوق کمیٹی میں بھی اٹھایا جا ئے گا۔ سیکرٹری آئی ٹی نے اس مسئلے کو حل کرنے پر زور دیا انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ میرے پاس کوئی ایسا قانونی اختیار نہیں ہے جس کے تحت پی ٹی ای ٹی کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میں اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد مناسب لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اور پنشنرز کو ان کا حق دلوانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ کمیٹی کے اجلاس میں سیاست دانوں کی ایزی پیسہ سہولت کے ذریعے رقوم کی منتقلی کو روکنے کے معاملہ کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ یہ قدغن سمجھ سے بالا  ہے۔ اسٹیٹ بینک کے حکام نے کمیٹی کو اس ضمن میں تفصیلی بریفنگ دی تاہم کمیٹی نے اس معاملے کو اہم سمجھتے ہوئے مزید بحث اگلے اجلاس تک موخر کر دی۔ ٹیلی فون  انڈسٹریز پاکستان کے پنشنرز کی پنشن میں عدم اضافے کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹی ای پی مالی بحران سے دوچار ہے جس کی وجہ سے مالی دبا بڑھ گیا ہے اس وقت ڈھائی ہزار پنشنرز ہیں اور زیادہ تر دبا اسی وجہ سے ہی آتا ہے حکام نے بتایا کہ اس کا حل یہ ہے کہ اضافی فنڈز لئے جائیں کمیٹی کے اراکین نے ٹی آئی پی کو ایک اہم اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ اس ادارے میں صلاحیت موجود ہے تاہم اسے پیشوارنہ بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکرٹری آئی ٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ اشتراک کی بنیاد پر سرمایہ کاری کیلئے موقع موجود ہیں اور ٹی آئی پی ٹیلی کام کے شعبے میں اشتراکی سطح پر منصوبے شروع کر سکتی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز انجینئر رخسانہ زبیری، فیصل جاوید، ثنا جمالی، مولانا عبدالغفور حیدری اور متعلق اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.