سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں خراب انٹرنیٹ سروس کے خلاف ارکان کمیٹی نے شکایتوں کے انبار لگادیئے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں خراب انٹرنیٹ سروس کے خلاف ارکان کمیٹی نے شکایتوں کے انبار لگادیئے

شہری علاقوں کے بچے کو آن لائن کلاسیں لینے میں مشکلات ہیں تو دور دراز علاقوں میں کس طرح طلبہ اس سے مستفید ہوسکتے ہیں ، قائمہ کمیٹی

تعلیم کے لئے آواز نہیں اٹھائی جا رہی کئی ماہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں،موبائل سروسز، موبائل فون اور لیپ ٹاپ کو حکومت کو سستا کرنا چاہئے،چیرپرسن

دور دراز علاقوں میں آن لائن کلاسز میں مشکلات کے فوری حل کے لئے سٹیزن ڈیجیٹل کونیکٹیوٹی ہاٹ سپاٹ بنائے جائیں،قائدایوان کی تجویز

کمیٹی کی تجاویز پر عمل ہو گا، آئی ٹی سسٹم کو سستا اورپسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کے فروغ کیلئے کام کیا جارہا ہے،سید امین الحق

پاکستان کی 80فیصد آبادی کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت موجود صرف 40سے 45فیصدلوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں ,چیئرمین پی ٹی اے

20 لاکھ طلبہ میں سے 5 لاکھ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ، 209یونیورسٹیوں میں سے 135 آن لائن تعلیم دے سکتی ہیں، ایچ ای سی کاانکشاف

اسلام آباد (صباح نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے خراب انٹرنیٹ سروس کے خلاف ارکان کمیٹی نے شکایتوں کے انبار لگادیئے،جو صورت حال ملک میں انٹرنیٹ کی ہے اس میں تو شہری علاقوں کے بچے کو لائن کلاسیں لینے میں مشکلات ہیں تو دور دراز علاقوں میں کس طرح طلبہ اس سے مستفید ہوسکتے ہیں ،بچوں کی تعلیم کے لئے آواز نہیں اٹھائی جا رہی کئی ماہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں،موبائل سروسز، موبائل فون اور لیپ ٹاپ کو حکومت کو سستا کرنا چاہئے۔وزیر آئی ٹی سید امین الحق  نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہاکہ کمیٹی کی تجاویز پر عمل ہو گا، آئی ٹی سسٹم کو سستا اورپسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کے فروغ کیلئے کام کیا جارہا ہے،حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ پاکستان کی 80فیصد آبادی کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت موجود صرف 40سے 45فیصدلوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں ، 20 لاکھ طلبہ میں سے 5 لاکھ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ، 209یونیورسٹیوں میں سے 135 آن لائن تعلیم دے سکتی ہے۔سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے نے تجویز پیش کی کہ دور دراز علاقوں میں آن لائن کلاسز میں مشکلات کے فوری حل کے لئے سٹیزن ڈیجیٹل کونیکٹیوٹی ہاٹ سپاٹ بنائے جائیںتاکہ عام لوگوں کی ڈیجیٹل ٹیکنا لوجی تک رسائی آسان بنائی جا سکے۔ جمعرات کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک  بھر میں اور خاص طور پر  پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ و طالبات کو آن لائن کلاسز، انٹرنیٹ سروسزاور آن لائن امتحانات کے حوالے سے درپیش مسائل کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ کرونا وباء کی وجہ سے دنیا کے حالات تبدیل ہو چکے ہیں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ملک کو درپیش چیلنج کے حوالے سے پاپندیوں کے باوجود کمیٹی کے اجلاس کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ پڑھی لکھی نسل کسی بھی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے  افسوس کی بات ہے کہ کاروبار کے حوالے سے لوگوں کو تحفظات ضرور ہیں مگر ملک کے بچوں کی تعلیم کے لئے آواز نہیں اٹھائی جا رہی کئی ماہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں جہاں بچوں کو تدریس کے علاوہ دیگر تربیت دی جاتی تھی ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس کی بدولت بچوں کی تدریس کا عمل موثر بنایا جا سکے ۔ آن لائن کلاسز اور امتحانات کے حوالے سے بے شمار مسائل سامنے آ رہے ہیں جب بہت سے لوگ انٹرنیٹ ایک وقت میں استعمال کرتے ہیں تو سسٹم میں مسائل پیداہوتے ہیں جسطرح ہمارے انتخابات کے نتائج میں مسائل میں پیدا ہوئے تھے اس  حوالے سے وزارت تعلیم ، ہائر ایجوکیشن ، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن ایک موثر طریقہ کار مرتب کرے تا کہ ہمارے بچوں کو تعلیم کے بہترمواقع میسر ہو سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن کلاسز کے لئے بے شمار لوگوں کو نہ ہی رسائی میسر ہے اور بہت سے لوگ ان سہولیات کو خریدنے کی استعداد نہیں رکھتے ۔ موبائل فون اور لیپ ٹاپ کو حکومت کو سستا کرنا چاہئے اور اس حوالے سے ایف بی آر بھی کمیٹی کو آگاہ کرے اور ایمپورٹ ڈیوٹی کم کرنے کے ساتھ ساتھ فون رجسٹریشن فیس بھی کم ہونی چاہئے ۔چیئر پرسن کمیٹی نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ سرکاری سکولوں کی سطح پر ہے جہاں غریب لوگوں کے بچے بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں جو فون اور لیپ ٹاپ خریدنے کی استعداد نہیں رکھتے اور ان اسکولوں کے اساتذہ کی بھی اتنی موثر قابلیت نہیں کہ وہ آن لائن کلاسز کے ذریعے موثر مستفید کر سکیں،اساتذہ کی آن لائن کلاسز کیلئے تربیت بھی لازمی ہے ۔ سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کرونا( کویڈ 19)  وبا کے دوران دور دراز علاقوں میں آن لائن کلاسز میں مشکلات کے فوری حل کے لئے سٹیزن ڈیجیٹل کونیکٹیوٹی ہاٹ سپاٹCitizen Digital Connectivity HotSpot بنانے کی تجویز دے دی تا کہ دور دراز علاقوں میں عام لوگوں کی ڈیجیٹل ٹیکنا لوجی تک رسائی آسان بنائی جا سکے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے  انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس کے دوران قائد ایوان نے کہا کہ کویڈ 19کے دوران حکومت نے ڈیجیٹل ٹیکنا لوجی کا موثر استعمال کیا ہے۔حکومت کی ڈیجیٹل پاکستان ویڑن کے باعث کویڈ 19کے چیلنج کے دوران ڈیجیٹل ٹریکنگ ، کرونا سے متاثرہ علاقوں (ہاٹ سپاٹس ) کی نشاندہی اور متعلقہ اداروں کے مابین بہتر رابطہ کاری کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بھر پور استفادہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران قائد ایوان نے کہا کہ سٹیزن کونیکٹیوٹی ہاٹ سپاٹ بنانے سے دور دراز کے ایسے علاقے جہاں ہر جگہ انٹرنیٹ کی سہولت اور ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہے اس رابطہ کاری کے ذریعے بہتر نتائج حاصل ہونگے۔ اس سے نہ صرف اس قسم کے چیلنجز بلکہ تعلیم کی بہتر فراہمی اور اسکولوں کی کلاسز تک بچوں کی رسائی آسانی سے ممکن بنائی جا سکے گی۔ سینیٹر وسیم شہزاد نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل پاکستان کیلئے کئے گئے اقدامات کو مزید توسیع دیتے ہوئے عام آد می تک سمارٹ فونز اور ڈیجیٹل آلات کی فراہمی آسان بنانا ہو گی۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے سمارٹ فون تیاری کے منصوبے کے دور رس نتائج نکلیں گے۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر حکومت کے فوکس کی وجہ سے کویڈ 19  کے دوران بھی بہتری نتائج حاصل ہوئے ہیں ـ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان کے ویڑن پر کام مزید تیز کرنا ہو گا کیونکہ یہ بات اب واضع ہو چکی ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو کویڈ 19کے چیلنج کے دوران سب سے زیادہ فائدہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی دستیاب صلاحیت سے ہوا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کے تحت نہ صرف ڈیجیٹل ٹریکنگ کی گئی ہے بلکہ کرونا سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کی نشاندہی اور متعلقہ اداروں اور ہسپتالوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری بھی ممکن ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کمپلیٹ مینجمنٹ سسٹم کا موثر طور پر کام کرنا حکومت کے ڈیجیٹل ویڑن کے ثمرات میں سے ہے۔ حکومت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت سے پہلے ہی واقف تھی یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان جس کا کرونا کے چیلنج کے دوران استعمال کیا گیا ہے حکومت اس پر پہلے سے ہی کام کر رہی تھی۔ ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ مختلف ممالک کو کرونا کے مسئلے کے دوران بے شمار چیلنجز کا سامناکرنا پڑا جبکہ حکومت پاکستان کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر فوکس کی وجہ سے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں انٹرنیٹ کی رسائی اور اْس کی معیاری سروس کے مسائل کا سامنا ہے جس کو سٹیزن کونیکٹیوٹی ہاٹ سپاٹ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے کیونکہ اسطرح سے کمیونٹی کے لیول پر جہاں یہ سروس دستیاب ہو گی وہاں سے اردگرد کے علاقے کے لوگ استفادہ کرسکتے ہیں۔اور مرحلہ وار ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سمارٹ فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو لوگوں کی قوت خرید کم ہونے کے باعث ان سہولیات کی فراہمی کیلئے  سبسڈی دینا ہو گی۔کمیٹی کے ارکان نے ڈیجیٹل کونیکٹوٹی کے حوالے سے قائدایوان کی تجویز کی بھر ستائش اور تائید کی اور اس پر فوری طور پر عمل درامد کا مطالبہ کیاـسینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ پہلے ہمیں اسٹیڈی کرنی چاہئے کہ کونسے پسماندہ علاقے ہیں اور کن علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولیت میسر نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو بھی انٹرنیٹ کی سہولت دینی چاہئے بے شمار علاقوں میں نیٹ ورک موجود ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے علم میں بات آئی ہے کہ مختلف نیٹ ورک سروسز کے ٹاورز غیر ملکیوں کو فروخت کئے جا رہے ہیں اگر یہ سچ ہے تو یہ سیکورٹی رسک ہو گا ۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہئے تا کہ کوئی دشمن ملک ہمارے ٹاورز کو استعمال نہ کر سکے۔ جس پر قائد ایوان سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ دنیا میں ایک نیا کنسپٹ ٹاور شیئرینگ رائج ہو چکا ہے جس سے کیپٹیل کاسٹ کم ہوتی ہے اور ہر کمپنی کو ٹاور لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی اس سے فائدہ زیاد ہ اور نقصان کم ہوتا ہے البتہ ان معاملات میں سیکورٹی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے پرسمجھوتہ ہیں کیا جا سکتا آن لائن کلاسز وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی حد تک تو موثر ثابت ہو سکتا ہے مگر صوبہ بلوچستان جو پسماندہ ترین صوبہ ہے وہاں کے طلبہ کے لئے کارآمد نہیں ہے نہ ہی بجلی میسر ہے اور نہ ہی وہاں کے غریب لوگ اپنے بچوں کیلئے یہ سہولیات میسر کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے واضع حکم دیا تھا کہ پرائیویٹ اسکول فیسیں نہ لیں مگر زبردستی وصول کی گئی ہیں۔جس پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ اہم معاملہ ہے قائمہ کمیٹی جو تجاویز دے گی اُس پر عملدرآمد کروایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کیبنٹ میں ایک تجویز پیش کی ہے اور حکومت نے وزارت تعلیم اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت دی ہے کہ آئی ٹی سسٹم کو سستا کیا جائے اور ملک کے پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں جس پر کام کیا جارہا ہے۔ 3Gاور 4Gکی زیادہ سے زیادہ سروسز  دی جا سکے ۔ ملک میں جلد سمارٹ فون کی مینیفکچرنگ شروع ہو جائے گی جس سے ان کی قیمتیں کم ہو جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور اے جے کے میں انٹرنیٹ کے معاملات کو ایس سی او اور ٹیلی کام دیکھتی ہے۔ سینیٹر ثنا ء جمالی نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں انٹرنیٹ کی سپیڈ بہت کم ہے بچوں کو آن لائن کلاسز میں بہت مسائل کا سامنا ہے ۔ سینیٹر تاج  محمد آفریدی نے کہا کہ فاٹا کی عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی  ہیں۔ اب وہ اضلاع بہت زیادہ پُر امن ہیں مگر بد قسمتی کی بات ہے کہ فاٹا کی عوام کو تمام سسٹم موجود ہونے کے باوجود بھی انٹرنیٹ فراہم نہیں کیا جا رہا طور خم پر ایک حادثے کو بنیاد بنا کر پورے فاٹا کو انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم کر دیا گیا ہے جس سے لوگوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے ۔ کمیٹی سفارش کرے کہ سابق فاٹا کے علاقوں میں انٹرنیٹ کی سروسز فراہم کی جائیں۔ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا جائے گا اور پُر امن علاقوں میں سہولت فراہم کر دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 80فیصد آبادی کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے اور صرف 40سے 45فیصدلوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ فاٹا میں یو ایس ایف نے بڑا کا م کیا ہے اور سیکورٹی کی وجہ سے چند علاقوں میں ڈیٹا سروسز بند ہیں لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے فکسڈ انٹرنیٹ چل رہا تھا جس کے 9ہزار کنکشن تھے اور 4900کا مزید اضافہ کر دیا ہے سیکورٹی اداروں کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں جہاں سیکورٹی کے مسائل نہیں ہیں وہا ں سہولت فراہم کر دی جائے گی ۔سینیٹر فدا محمد کے سوال کے جواب پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ پب جی  گیم کے حوالے سے پی ٹی اے کو شکایات موصول ہو رہی تھی جس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے ۔ ایم ڈی ایچ ای سی ڈاکٹر نادیہ طاہر نے کمیٹی کو بتایا کہ کرونا کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو بند کرنا پڑا ایچ ای سی کی چیئر پرسن نے یونیورسٹیوں کے وائیس چانسلر سے تفصیلی متعدد میٹنگز کی ہیں ملک میں20 لاکھ بچے یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں ایچ ای سی نے تمام پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا سروے کیا ہے کہ وہ آن لائن تعلیم دے سکتے ہیں اس کے لئے 6 گائیڈلائنز کے ساتھ آن لائن کلاسز شروع کی ہیں جس میںانٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے ساتھ حفاظتی تدابیر بھی شامل ہیں بیس لاکھ طلبہ میں سے پانچ لاکھ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے ان کے لئے حکومت کے سامنے پلان رکھا ہے اور جن اداروں میں لیب کی ضرورت ہے وہاں حکومت سے اجازت طلب کی ہے انہوں نے کہا کہ بچوں کو تعلیمی اداروں میں آنے جانے کے علاوہ دیگر مسائل بھی ہیں ملک میں صرف 4فیصد بچے ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں جو 10سے 15فیصد ہونا چاہئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایچ ای سی نے 53ہزار اساتذہ کی آن لائن تعلیم کے لئے ٹریننگ کرائی ہے پہلے 209یونیورسٹیوں میں سے 35آن لائن کی سہولت فراہم کر سکتی تھی اب 135 آن لائن تعلیم دے سکتی ہے اور ہر بچے کے امتحانات کے حوالے سے مسائل بھی سننے جا رہے ہیں یونیورسٹیوں کو پابند کیا ہے کہ بجلی یا کسی انٹرنیٹ کی وجہ سے اگر کوئی بچہ امتحان نہیں دے سکا تو اس کا دوبارہ امتحان لیا جائے۔ وزارت تعلیم کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک ٹی وی چینل کے ذریعے ماہر اساتذہ کی ایک ٹیم بنائی ہے جو ہر کلاس کے بچوں کوآن لائن تعلیم دے رہی ہے 5فیصد ایسے پرائیویٹ سکول ہیں جن کی فیس پانچ ہزار سے زیادہ ہے کمیٹی کو بتایا گیا کہ سرکاری  اسکولوں کے اساتذہ کی آن لائن کلاسز کیلئے تربیتی پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے ہیں ۔یو ایس ایف کے قائم مقام سی ای او نے کمیٹی کو بتا یا کہ صوبہ بلوچستان کے بے شمار علاقوں میں نیٹ ورک مکمل ہے جن میں پشین ، نصیرآباد، مستونگ ، تربت ، ژوب ، سبی ،قلات ، خضدار، چاغی ، اواران ، خاران ، واشوک وغیرہ کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور ڈیرہ بگٹی میں کام جاری ہے۔جس پر چیئر پرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ دنیا بھر میں کرونا وباء کی وجہ سے حالات غیر معمولی ہو چکے ہیں یو ایس ایف ایسے اقدامات اٹھائے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف میسر ہو سکے ہاٹ سپاٹ علاقوں کی نشاندہی کی جا سکے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کویڈ 19کے تناظر میں آن لائن تعلیم کے حوالے سے مختصر ، درمیانی اور طویل مدتی پائیدار پالیسی مرتب کی جائے ۔سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی کے ممبران نے سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کی کردارکشی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ۔ چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ حکومت اپوزیشن اراکین و  سیاسی قیادات کیخلاف سوشل میڈیاپر پروپیگنڈہ کرنے والوں کیخلاف اقدامات اٹھانا ہونگے کسی کو بھی کسی لیڈر یا شہری کی کردار کشی کی اجازت نہیں دینگے۔انہوں نے کہا کہ آج اگر بلاول بھٹو زرداری کیخلاف جاری کردارکشی مہم نہ روکا گیا تو یہی لوگ کل عمران خان اور نوازشریف کیخلاف مہم چلائئنگے اسطرح کے پروپیگنڈہ اور جھوٹے الزامات لگانے والوں کیخلاف سخت اقدامات لئے جائیں۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس چیئرمین سینیٹ کی منظوری سے ایچ ای سی میں منعقد کرایا جائے جس میں متعلقہ اداروں سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور طلبہ سے درپیش مسائل بارے آگاہی حاصل کی جا سکے ۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میںقائد ایوان سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز رحمان ملک، تاج محمد آفریدی ، فدا محمد ، فیصل جاوید ، ثناء جمالی ، کلثوم پروین اور نصیب اللہ بازئی کے علاوہ وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق ، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت آئی ٹی ، چیئرمین پی ٹی اے ، ایم ڈی ایچ ای سی  اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.