ہندوستانی اسمارٹ فون مارکیٹ کا 72  فیصدچینی کمپنیوں کے قبضے میں ہے

بھارت میں چین کی بنی اشیاء کے بائیکاٹ مہم بری طرح ناکام ہو گئی ہے
ہندوستانی اسمارٹ فون مارکیٹ کا 72  فیصدچینی کمپنیوں کے قبضے میں ہے
 چینی  اشیا  ہندوستانی سماج کا ایک اہم حصہ 7 ہزار کروڑ سے زیادہ کا کاروبار
بیجنگ ، نئی دہلی(کے پی آئی) بھارت میں چین کی بنی اشیاء کے بائیکاٹ مہم بری طرح ناکام ہو گئی ہے ۔ چین کی بنی تجارتی  اشیاء ہندوستانی سماج کا ایک اہم حصہ ہیں اور اب یہ 7 ہزار کروڑ سے زیادہ کا کاروبار ہے۔ ہندوستانی اسمارٹ فون مارکیٹ کا 72  فیصدچینی کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ چین کے اخبار گلوبل ٹائمز  کے مطابق چین سرحدی تنازعہ پر زبردست کشیدگی کے دوران  بھارت میں کئی تنظیمیں چینی سامان کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا بائیکاٹ کرنے کیلئے مہم بھی چلائی جارہی ہے ۔ دوسری طرف چین نے بھی ہندستان میں اس کے سامان کے بائیکاٹ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہندستان میں کچھ انتہائی قوم پرست ہمارے ساما ن  کے خلاف افواہیں پھیلارہے ہیں لیکن ان کا بائیکاٹ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ چین نے کہا کہ ہماری تجارتی اشیا  ہندوستانی سماج کا ایک اہم حصہ ہیں اور اب یہ 7 ہزار کروڑ سے زیادہ کا کاروبار ہے۔ گلوبل ٹائمز میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے کہا ہے کہ ہندستان کی کچھ انتہاپرست پارٹیاں مسلسل چین کو بدنام کرنے کی سازش کر رہی ہیں ۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ چین کے سامان کا بائیکاٹ کرنے کیلئے مہم  چائی گئی  ہم ہندستان کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہ نقصان کا سودہ ہے اور ایسا ممکن بھی نہیں ہے۔ چین نے بالی ووڈ فلم 3 ایڈیٹ فیم سانٹسٹ سونم وانگچک کے ذریعے جاری کئے گئے ویڈیو اور ‘ریموو چائنیز ایپ’ نام کی ایپلیکیشن کو لیکر بھی سخت اعتراض کیاہے۔ اس ایلیکیشن کو چین کی شکایت کے بعد گوگل پلے  سٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دعوے کے مطابق اس ایپ کو ایسے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ چین میں بنے سبھی ایپلیکیشن کو سلیکٹ کرکے آپ کے اسمارٹ فون سے حزف کر دیتا تھا۔گلوبل ٹائمز (Global Times)  کے مطابق ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی تنازعہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔چین نے الزام لگایا ہے کہ اس کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔ شنگھائی انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ریسرچ فیلو ژا گنچینگ کے مطابق ہندستان میں چین کے خلاف غلط معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے مابین 7 ہزار کروڑ کی تجارت ہوئی ہے اور اس کا بیشتر حصہ ہندستان نے درآمد  کیا ہے۔چین مسلسل کہہ رہا ہے کہ کوروناوائرس اور لاک ڈان کے چلتے پہلے ہی دونوں ممالک کی معیشت پر بھاری بوجھ ہے ایسے میں چینی سامان کی مخالفت کرکے ہندستان پربوجھ بڑھنے ہی والا ہے کیونکہ زیادہ تر کفایتی سامان چین سے ہی درآمد  کیا جاتا ہے۔ چینی انسٹی ٹیوٹ آف کنٹیمپریری انٹرنیشنل رلیشن کے ساتھ ایشین انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر لو چنہا کے مطابق ہندستانیوں کیلئے فی الحال چینی سامان کا بائیکات کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ہندوستان کے انفرااسٹرکچر کو دوبارہ بنانا چاہتی ہے جو کہ اس وقت ہندستان کی جی ڈی پی کا صرف 16 فیصد ہی ہے لیکن چینی سامان کے بائیکاٹ   کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ اس وقت ایسا نہیں ہے۔ بتادیں کہ ہندوستانی اسمارٹ فون مارکیٹ کا 72  فیصد چینی کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ جبکہ روزمرہ کی اشیا میں یہ حصہ 70 سے 80 فیصد تک جاسکتا ہے۔
#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.