اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پانچ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ۔

5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پانچ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ۔
 609 افراد ابھی بھی حراست میں ہیں ۔بھارتی وزیر جی کرشن ریڈی 
 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 177  کشمیری سیاستدانوں کو گرفتار کیا گیا
نئی دہلی (کے پی آئی) بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ   5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پانچ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ 609 افراد ابھی بھی حراست میں ہیں ۔بھارتی وزیر مملکت امور داخلہ جی کرشن ریڈی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ 5 اگست کے بعد پولیس فائرنگ سے کوئی نہیں مارا گیا ۔ دریں اثنا ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی 177  کشمیری سیاستدانوں کو گرفتار کیا گیا۔ تین ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان گرفتار شدگان میں سے بیشتر ابھی تک رہا نہیں کئے گئے ۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اکثر گرفتار لیڈروں کے خلاف مقدمہ بھی درج نہیں کیا گیا ہے۔ قیدیوں میں سے سب سے زیادہ یعنی 71 افراد کا تعلق فاروق عبداللہ کی قیادت والی جماعت نیشنل کانفرنس کے ساتھ ہے۔ حیرت انگیز طور پر گرفتار شدگان میں سے ایک کارکن کا تعلق حکمران جماعت بی جے پی کے ساتھ ہے۔ بی جے پی کا یہ کارکن شمالی کشمیر کے علاقے سوپور کا رہائشی ہے۔بی جے پی کی سابق حلیف جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے 35 سیاستدانوں کو نظر بند کیاگیا ہے جن میں سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی سمیت کئی سابق وزرا اور اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔ کانگریس کے 28 سیاسی رہنما جبکہ سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہ فیصل کی پارٹی جموں و کشمیر پیپلز مومنٹ کے 28 رہنماں کو حراست میں لیا گیا ہے۔سجاد غنی لون جنہیں نریندر مودی کا قریبی مانا جاتا تھا، کی پارٹی پیپلز کانفرنس کے 10 رہنما نظر بند ہیں، جبکہ انجینئر رشید کی پارٹی عوامی اتحاد پارٹی کے 8 رہنماں کو حراست میں لیا گیا جن میں خود انجینئررشید بھی شامل ہیں۔ انہیں این آئی اے نے حراست میں لیکر دلی منتقل کیا ہے۔ 30 ستمبر تک 4844 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے 4062 افراد پتھر امیں ملوث ہیں، اور156 عسکریت پسند تنظیموں کے معاون، جماعت اسلامی اور حریت کانفرنس کے 117 رضا کار اور کارکنان ہیں۔ساتھ ایشین وائر کے مطابق 118 رہا شدہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔زیادہ تر گرفتاریاں ضلع بانڈی پورہ سے کی گئی ہیں، بانڈی پورہ کے بعد سرینگر، کپوارہ اور گاندربل سے سب سے زیادہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت 746 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو ابھی بھی جیلوں میں ہیں۔پانچ اگست اور 30 اکتوبر کے درمیان 235 قیدیوں کو ملک کی دوسری ریاستوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ آٹھ اگست کو 26 قیدیوں کو آگرہ کی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے۔گیارہ اگست سے 21 اگست کے درمیان 46 قیدیوں کو نینی، پریاگ راج، وارانسی اور امبیڈ کر نگر کے جیلوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ 3 اور 5 ستمبر کے درمیان 30 قیدیوں کو امبیڈکر نگر اور آگرہ سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے۔
#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.