سوشل میڈیا پرسپریم کورٹ بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف  مہم کا نوٹس

سینیٹ قائمہ کمیٹی  داخلہ کاسوشل میڈیا پرسپریم کورٹ بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف  مہم کا نوٹس ، ایف آئی اے کو تحقیقات کی سفارش کردی
کہاں  سے یہ مہم شروع ہوئی۔  ایف آئی اے سے رپورٹ طلب
کسی کے بھی خلاف اس قسم کی مہمات بدنامی کیلئے شروع کی جاتی ہیں،چیئرمین قائمہ کمیٹی
اس مہم کے پیچھے  ”را ”بھی ملوث ہوسکتی ہے،رحمان ملک
حکومت کی طرف سے  نیکٹا کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پارلیمنٹ  میںپیش کرنے  کی ترمیم کی مخالفت
قائمہ کمیٹی نے  سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری قانون سے 15 دنوں میں حتمی جواب مانگ لیا

پھانسی کے سزا کے مجرمان کی بیرون ملک سے  پاکستان منتقلی کے بعد سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے  کے سرکاری بل کی

اسلام آباد(صباح نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سوشل میڈیا پرسپریم کورٹ بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف مہم کا نوٹس لیتے ہوئے  ایف آئی اے کو تحقیقات کی سفارش کردی، ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کی گئی ہے کہ کہاں  سے یہ مہم شروع ہوئی۔ کسی کے بھی خلاف اس قسم کی مہمات بدنامی کیلئے شروع کی جاتی ہیں،چیئرمین قائمہ کمیٹی رحمان ملک نے  شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس مہم کے پیچھے  ”را ”بھی ملوث ہوسکتی ہے، حکومت کی طرف سے  نیکٹا کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پارلیمنٹ  میںپیش کرنے  کی ترمیم کی مخالفت کردی گئی ہے، قائمہ کمیٹی نے  سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری قانون سے 15 دنوں میں حتمی جواب مانگ لیا ہے جبکہ  پھانسی کے سزا کے مجرمان کی بیرون ملک سے  پاکستان منتقلی کے بعد سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے  کے سرکاری بل کی ارکان کی اکثریت نے  مخالفت کردی ہے  حکومت ارکان کو مطمئن نہ کرسکی، سینیٹر جاویدعباسی نے  شبہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں یہ الطاف حسین کیلئے یہ ترمیم تو نہیں کی جارہی، سب کمیٹی کو یہ معاملہ سپرد کردیا گیا ہے۔ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ میٹرو پولیٹن اسلام آباد چڑیا گھر کی خوراک کے  ڈیڑھ کروڑ کے بل کی نادہندہ ہے۔ جنوری 2019 میں8نیل گائیں کم خوراک ملنے کی وجہ سے  ہلاک ہوگئیں۔ خوراک کا معاملہ سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن نے شٹل کاک بن کر رہ گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس  جمعہ کو چیئرمین  رحمان ملک کی صدارت میں  پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ مقبوضہ کشمیر میں  انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ  مختلف عالمی فورمز پر اٹھانے کیلئے حکومت کو رہنما اصول  تحریری طورپر سپرد کردئیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے  یقین دہانی کرائی کہ باقاعدہ طورپر سمری وزیراعظم کو بجھوائی جائے گی، کشمیریوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے  دنیا کے ہر دروازے پر دستک دیں گے۔ ارکان نے کہاکہ بھارت کیخلاف پاکستان کے پاس مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے  ٹھوس شواہد اور جامع  مقدمہ موجود ہے۔ اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران سینیٹر میاں عتیق شیخ کے  نیکٹا ایکٹ میں ترمیم کے بل کا جائزہ لیا گیا ، ترمیم میں  نیکٹا کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے  کے بارے میں ہے  ،وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہ رپورٹ باقاعدگی سے حکومت کو پیش کی جاتی ہے انتہائی  حساس معاملہ ہے نیکٹا کوئی قانون  نافذ کرنے والی آرگنائزیشن نہیں ہے نہ کوئی خفیہ ادارہ ہے یہ ایک قومی ادارہ ہے  جس میں مختلف معاملات پر تحقیق اور پالیسی کے بارے میں آگاہی ملتی ہے۔ حکومتی مخالفت پر کمیٹی نے  سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری قانون سے حتمی رائے مانگ لی ہے۔ کارروائی کے دوران بیرون ملک سے کسی بھی قیدی کولانے کیلئے  اس پر پھانسی کی سزا کا قانون لاگو نہ ہونے سے متعلق سرکاری ترمیمی بل کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر جاوید عباسی نے  شدید  تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسا نہیںہوسکتا کہ سزائوں کے حوالے سے امتیاز برتا جائے ایک ایسا جرم جس میں ایک پاکستانی کو پھانسی اور دوسرے کو عمر قید دی جائے یہ ممکن نہیں ہے۔ پھانسی کی سزا کو اسلامی اور آئینی تحفظ حاصل ہے۔ کہیں الطاف حسین کیلئے تو یہ ترمیم نہیں لائی جارہی، حکومت نے  اس قسم کے شبہ کو مسترد کردیا ہے تاہم سرکاری بل کی توثیق کی بجائے سینیٹر  شہزاد کی سربراہی میں تین رکنی سب کمیٹی قائم کردی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے  عدالت عظمیٰ میں آرمی چیف کی مدت کی توسیع سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران  سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد ڈالے جانے کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ رحمان ملک نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس معاملے  پر خود آواز اٹھائی ہے  ہماری آواز بھی اس میں شامل ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو بھی بدنام کیا گیا اور یہ کیس ایف آئی اے کے سپرد کرچکے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے  سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کیخلاف مواد کی ایف آئی اے کو تحقیقات کی ہدایت کردی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے  ایف آئی اے سے  ٹاپ سٹی سے متعلق اعتراضات کے بارے میں بھی رپورٹ مانگ لی ہے ۔ سول ایوی ایشن، آر ڈی اے اور سی ڈی اے کی کلیئرنس کے بارے میں تحریری جواب مانگا گیا ہے۔ کمیٹی نے  پاکستان ہائوسنگ  اتھارٹی کی طرف سے  اسلام آباد میں  نالوں کے قریب 12سو مکانات کی تعمیر کے حوالے سے قانون کی خلاف ورزی کا نوٹس بھی لیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے  ایف آئی اے کو سی ڈی اے اور پی ایچ اے سے ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی ہے۔ یہ مکانات نالے  سے 150 فٹ کے فاصلے پر تعمیر ہونے تھے پی ایچ اے  نے 12فٹ کے فاصلے پر تعمیر کردئیے اور قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ دونوں اداروں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ لے آئوٹ پلان کی بھی باقاعدہ منظوری کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ قائمہ کمیٹی نے  اسلام آباد میں کھوکھوں اورکیبن کا مسئلہ حل نہ ہونے پرمتعلقہ ادارے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ لائسنس کے باوجود غریب  لوگوں کے کاروبار میںرکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔ میئر اسلام آباد اس حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے آئندہ اجلاس میں تحریری جواب طلب کیا گیا ہے ۔ اجلاس میں اسلام آباد چڑیا گھر کو  خوراک فراہم کرنے والی کمپنی کے نمائندے بھی شریک ہوئے اور بتایا کہ چھ مہینے سے خوراک کے بل  کا متعلقہ ادارہ ڈیفالٹر ہے، جنوری میں بھی  خوراک کم ملنے کی وجہ سے  8نیل گائیں ہلاک ہوگئی تھیں۔ افسران اس کے ذمہ داران ہیں چھوٹے ملازمین پر اس کی ذمہ داری ڈالی جارہی ہے۔ ڈیڑھ کروڑ کا بل ادا کرنا ہے اور یہ ادائیگی سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن میں شٹل کاک بن کر رہ گئی ہے۔ کمیٹی نے ایک ہفتے میں میئر اسلام آباد سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
am-aa-mz
#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.