ای-کامرس کے فروغ کیلئے آگاہی بہت ضروری ہے، ملکہ نیدرلینڈز

ای-کامرس کے فروغ کیلئے آگاہی بہت ضروری ہے، ملکہ نیدرلینڈز
مائیکرو پیمنٹ پلیٹ فارم اور فنانشل انکلوژن کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی حکومت کے اقدامات قابل تعریف ہیں جس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے
پاکستان میں فنانشل انکلوژن کی شرح 17 سے بڑھ کر 31 فیصد ہوگئی ہے جو خوشی کی بات ہے
، ہمیں امید ہے کہ اس ضمن میں جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں ان کو حاصل کرنے پر بھرپور توجہ دی جائے گی،پاکستان انوویٹو فنانس فورم سے خطاب
پاکستان فنانشل انکلوژن کے حوالے سے پرعزم ہے اور ہم حکومتی ادائیگیوں کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔حماداظہر
ٹیکس دوست ماحول کی فراہمی ہمارا عزم ہے، ایف بی آر اور ایس ایم ایز کے شعبے میں اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں،شبر زیدی
برطانیہ، پاکستانی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی ہے۔  برطانیہ پاکستان کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا،برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر

اسلام آباد(صباح نیوز)ملکہ نیدرلینڈز نے مائیکرو پیمنٹ پلیٹ فارم اور فنانشل انکلوژن میں پاکستانی حکومت کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ای-کامرس کا فروغ وقت کی ضرورت ہے اس لیے آگاہی بڑھائی جائے۔اسلام آباد میں کارانداز پاکستان، بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاونڈیشن، یو کے ایڈ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے مشترکہ طور منعقدہ پاکستان انوویٹو فنانس فورم سے نیدرلینڈز ملکہ میکسیما نے خطاب کیا جہاں وفاقی وزیر حماد اظہر، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبرزیدی، پاکستان میں تعینات برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر رچرڈ کراوڈر نے بھی خطاب کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ برائے فنانشل انکلوژن  میکسیما نے اپنے خطاب نے کہا کہ مائیکرو پیمنٹ پلیٹ فارم اور فنانشل انکلوژن کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی حکومت کے اقدامات قابل تعریف ہیں جس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ مائیکرو پیمنٹ پلیٹ فارم اور معیشت کو ترقی دینے کے لئے پاکستان کی حکومت کے اقدامات انتہائی خوش آئند ہیں جس سے بالخصوص خواتین کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فنانشل انکلوژن کی شرح 17 سے بڑھ کر 31 فیصد ہوگئی ہے جو خوشی کی بات ہے، ہمیں امید ہے کہ اس ضمن میں جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں ان کو حاصل کرنے پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ملکہ نے کہا کہ سپلائی چین میں نجی شعبہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اسی طرح ای-کامرس کا فروغ بھی وقت کی ضرورت ہے اس لیے اس حوالے سے آگاہی کو بڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ مائیکرو پیمنٹ پلیٹ فارم اور فنانشل انکلوژن کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی اقدامات قابل تعریف ہیں اور توقع ہے کہ اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔قبل ازیں وفاقی وزیراقتصادی امور حماداظہر نے ملکہ میکیزیما کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی ایڈوکیٹ کی حیثیت سے آج کی تقریب میں ملکہ میکیزیما کی شرکت ہمارے لیے باعث مسرت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان فنانشل انکلوژن کے حوالے سے پرعزم ہے اور ہم حکومتی ادائیگیوں کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔وفاقی وزیرحماد اظہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا شعبہ اقتصادی میدان میں روزگار کی فراہمی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا حصہ 30 فیصد کے قریب ہے جس سے اس شعبے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا شعبہ ملک کے مجموعی قرضے کا 7 فیصد وصول کرتا ہے، موجودہ حکومت نے اس شعبے کا قرض پرائیویٹ سیکٹر میں 7 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے کامیاب جوان اسکیم کے تحت آسان قرضے فراہم کررہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک نے کاروبار میں آسانیوں کے حوالے سے حالیہ رینکنگ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں کاروبار میں آسانیوں کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 28 پوائنٹس کی بہتری آئی ہے اور امید ہے کہ آئندہ سال اس میں مزید اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں وصولیوں کی شرح میں بہتری آئی ہے، ٹیکس فائلر کی تعداد میں رواں سال 7 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جو خوش آئند ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مالیات میں ویلیو ایڈیشن کا فروغ اہمیت کا حامل ہے، حکومت اس ضمن میں کام کررہی ہے۔ حکومت کریڈٹ بیوروز کو لائسنس کے اجرا کے طریقہ کار کو بہتر بنا رہی ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دوست ماحول کی فراہمی ہمارا عزم ہے، ایف بی آر اور ایس ایم ایز کے شعبے میں اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ملک کی معیشت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروبار کا حصہ 30 فیصد کے قریب ہے لیکن اس کا زیادہ تر حصہ دستاویزی نہیں ہے جس کی وجہ سے اس شعبے کو مالیاتی خدمات کی مناسب انداز میں فراہمی نہیں ہو رہی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو ٹیکس کے نظام کا حصہ بنایا جائے۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ بجلی کے صنعتی اور تجارتی صارفین کی تعداد31 لاکھ ہے جن میں سے صرف 43 ہزار سیلز ٹیکس ادا کررہے ہیں، جب تک وہ دستاویزی معیشت کا حصہ نہیں بنتے اس وقت تک انہیں بہتر مالیاتی خدمات فراہم نہیں ہوسکتیں۔انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے سے منسلک ایس ایم ایز ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ہم چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت اور کاروبار کے لیے ٹیکس قوانین کو آسان بنا رہے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس کے نظام کو آسان بنانا اور اس کی بنیاد میں وسعت ہمارا ہدف ہے، ٹیکس قوانین کو آسان بنائے بغیر ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے نظام میں نہیں لا سکتے، حکومت اس حوالے سے اصلاحات کے ایک جامع پروگرام پر عمل پیرا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔اس موقع پر مائیکرو پیمنٹ گیٹ وے کے ضمن میں مفاہمت کی دستاویزات پر کارانداز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی سرفراز اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سہیل جاوید نے دستخط کیے۔اس موقع پر پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر رچرڈ کراڈر نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان خصوصی تعلقات قائم ہیں، برطانیہ میں مقیم پاکستانی برطانیہ کی ترقی اور خوش حالی میں اپنا کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی اور ثقافتی تعلقات قائم ہیں اور برطانیہ، پاکستانی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی ہے۔ رچرڈ کراوڈر نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی اہمیت کی حامل ہے، اس ضمن میں برطانیہ اپنا کردار ادا کرے گا۔
#/S

[Message clipped]  View entire message

Attachments area

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.