مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوجی محاصرہ 111ویں روز کشمیر میں سب کچھ نارمل نہیں۔۔۔۔ یشونت سہنا

مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوجی محاصرہ 111ویں روز بھی جاری 
بارش ، برف باری نے لوگوںکی مشکلات بڑھا دیں
بھارتی اعلی شخصیات نے مقبوضہ کشمیر کو برفیلی جیل قرار دے دیا
70سات لاکھ کشمیریوں کو یخ بستہ جیل میں قید کر رکھا ہے، سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک
کشمیر میں سب کچھ نارمل نہیں۔۔۔۔ یشونت سہنا
سرینگر(کے پی آئی )مقبوضہ کشمیر میں بھار تی فوجی محاصرہ  ہفتہ کو مسلسل 111ویں رو ز بھی جاری رہا جس کے باعث وادی کشمیر ، جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج ہیں۔ تازہ بارش اور برف باری نے بھارتی پابندیوں اور محاصرے کے باعث پہلے سے مشکلات کا شکار کشمیریوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔  کے پی آئی  کے مطابق مسلسل محاصرے کے باعث لوگ سردیوں کے سخت موسم کیلئے اشیائے ضروریہ ذخیرہ نہیں کر سکیں ۔ مقبوضہ وادی کشمیر کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد سرینگر جموںشاہراہ برف باری کیوجہ سے موسم سرما میں اکثر وقت بند رہی ہے۔ قابض انتظامیہ نے دفعہ 144کے تحت پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں اور چپے چپے پر بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ مقبوضہ علاقے خاص طور پر وادی کشمیر کے لوگ پری پیڈ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کے باعث بدستور مشکلات سے دوچار ہیں۔کشمیری عوام غیر قانونی بھارتی قبضے اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مذموم بھارتی اقدام کے خلاف اپنے غم وغصے کے اظہار کیلئے سول نافرمانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دکانیں صرف صبح کے وقت کھولی جاتی ہیں ، سڑکوں پرپبلک ٹرانسپورٹ کم نظر آتی ہے جبکہ سکول اور دفاتر بھی ویران ہیں۔ دریں اثنا  بھارت کی اعلی شخصیات پر مشتمل ایک وفد نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وادی کو ٹھنڈی جیل قرار دے دیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سینئر صحافی بھارت بھوشن اور ایئرفورس کے سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک سمیت سول سوسائٹی کے وفد نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد مودی حکومت کے حالات معمول پر ہونے والے دعوے کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کردیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  یشونت سنہا کا کہنا تھا کہ کشمیر میں حالات نارمل نہیں، ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی دیکھا ساری دکانیں بند ہیں، کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، فون اور انٹرنیٹ پر پابندی ہے، حکومت یا جانبدار میڈیا سے ہم تک معلومات پہنچتی ہیں، اس لیے ہم خود آزادانہ طور پر حالات کا جائزہ لے کر ملک کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں گے۔کپل کاک نے موجودہ صورتحال کو فروزن امپریزنمنٹ  )خ بستہ قید(قرار دیتے ہوئے کہا کہ 70 لاکھ کشمیریوں کو یخ جیل میں رکھنے کے باوجود صورتحال کو معمول پر قرار دیا جارہا ہے، حکومت کو اعلانات کے بجائے کشمیریوں کے درد کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے جس میں وہ 5 اگست سے مبتلا ہیں جب کشمیر کی نیم خود مختاری کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا۔بھارت بھوشن نے کہا کہ کشمیر کے حالات پرسکون اور پرامن نہیں ہیں جبکہ میڈیا کو بھی کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، کاروبار بھی ٹھپ ہے، آخر کشمیری بھی ہماری طرح شہری ہیں، تو ان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے،یشونت سنہا کی قیادت میں بھارتی سول سوسائٹی اراکین کا ایک وفد جمعہ کو سرینگر پہنچا جہاں وہ 25نومبر تک قیام کرے گا۔ وفد میں یشونت سہنا کے علاوہ سابق بیورو کریٹ وجاہت حبیب اللہ، صحافی بھارت بھوشن اور سول سوسائٹی رکن کپل کاک شامل ہیں۔ یاد رہے کہ یشونت سنہا نے ستمبر میں بھی وادی کشمیر کے دورے کی کوشش کی تھی تاہم انہیں سرینگر ائر پورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا تھا۔
#/

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.