جامعات کاحاصل ہونے والاانٹرنیٹ ڈیٹا قانون نافذکرنے والے اداروں کودیتے ہیں ، ایچ ای سی حکام کا انکشاف

سمارٹ کیمپس کے تحت70جامعات کاحاصل ہونے والاانٹرنیٹ ڈیٹا قانون نافذکرنے والے اداروں کودیتے ہیں ،سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق میں ایچ ای سی حکام کا انکشاف
کمیٹی کا جامعات کے طلبہ کاڈیٹا ایجنسیوں کو دینے پر شدید تحفظات کااظہارکرتے ، طلبہ کوبتائے بغیرایسا کرناکسی صورت مناسب نہیں ہے ،ارکان کمیٹی
بلوچستان یونیورسٹی میںشدید سیکورٹی خدشات کے باوجود کمیٹی کے کہنے پرسی سی ٹی وی کیمرے 91سے کم کرکے 56کردئے ۔قائمقام وائس چانسلر
ہائی کورٹ میں کیس چلارہاہے جبکہ ایف آئی اے انکوائری کررہی ہے رپورٹ آنے کے بعد اصل بات سامنے آئے گی
بلوچستان یونیورسٹی واقع پرکمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے حکام کو کمیٹی میں طلب کرلیا۔

اسلام آباد(صباح نیوز)سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق میں ایچ ای سی حکام نے انکشاف کیاہے کہ سمارٹ کیمپس کے تحت70جامعات کاحاصل ہونے والاانٹرنیٹ ڈیٹا قانون نافذکرنے والے اداروں کودیتے ہیں ،کمیٹی نے جامعات کے طلبہ کاڈیٹا ایجنسیوں کو دینے پر شدید تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ طلبہ کوبتائے بغیرایسا کرناکسی صورت مناسب نہیں ہے ۔بلوچستان یونیورسٹی میں سیکورٹی خدشات کے باوجود کمیٹی کے کہنے پرسی سی ٹی وی کیمرے 91سے کم کرکے 56کردئے ۔ہائی کورٹ میں کیس  چلارہاہے جبکہ ایف آئی اے انکوائری کررہی ہے رپورٹ آنے کے بعد اصل بات سامنے آئے گی ۔کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے حکام کو کمیٹی میں طلب کرلیا۔حکام نے بتایاکہ 70جامعات میں کیمرے لگائے جائیں گے اس کے ساتھ سمارٹ کیمپس کے تحت جامعات کو انٹرنیت سے منسلک کیاگیاہے ،بلوچستان یونیورسٹی کو16کروڑ کابجٹ خسارہ ہے ہمارے پاس اگلے ماہ تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں ہیں،پی ایم ڈی سی کے ملازمین کوچھ ماہ کی تنخواہ دیں گے اور پنشن کامسئلہ حل کریں گے ،پی ایم ڈی سی کے سیکرٹری کی 5لاکھ اور ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کی تنخواہ 6لاکھ سے زیادہ تھی حادثہ اچانک نہیں ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے پرنسپل ایڈورڈ کالج پشاورکے پرنسپل کو دھمکیوں کا معاملے قائد ایوان شبلی فراز کے سپرد کرکے ایک ماہ  میں معاملے کے حل کرکے رپورٹ دینے کی ہدایت کردی ۔جمعرات کوسینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیرمین مصطفی نوازکھوکھوکی صدارت میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں قائدایوان سینیٹر شبلی فراز ،سینیٹر جہانزیب جمال دینی ،سینیٹر عثمان کاکڑ،طاہربرنجو،کے پی کے ،بلوچستان کے اعلی سرکاری حکام نے شرکت کی ۔پرنسپل ایڈورڈ کالج پشاورکے پرنسپل کو دھمکیوں کا معاملے پر کالج کے پرنسپل نے کمیٹی کوبتایاکہ مجھے مشال خان جیسا حال کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، دھمکیوں سمیت تمام صورتحال سے ایف آئی اور پولیس حکام کو آگاھ کیا،مجھے دھمکی آمیز کال بھی موصول ہوئی،پولیس حکام نے کہاکہ پرنسپل اور نہ ہی پرنسپل  کے گھر پر کوئی حملہ ہوا، چھ طلبہ گھر کے باہر احتجاج ضرور کر رہے تھے،طلبہ اور اساتذہ کو پرنسپل کی مدت ملازمت میں توسیح لینے پر تحفظات ہیں،سینیٹرعثمان کاکڑ نے کہاکہ کالج کے طلبہ کا پرنسپل کا دھمکیوں اور احتجاج کی مذمت کرتے ہیں جو طالبان کانام استعمال کرے اس پر طالبان والا دفع لگایا جائے. حکام  نے  کہا کہ  پرنسپل  بورڈ آف  گورنس  کی  بات  نہیں  مان  رہے  ہیں ۔کمیٹی نے معاملہ قائد ایوان شبلی فراز کے سپرد کردیاشبلی فراز ایک ماہ میں معاملے کے حل کو یقینی بنائیں گے۔ کالج کا مسئلہ مسلمان  اور کرسچن کا نہیں ہے  یہ  اچھے ادارے ہیں  اور  اس  کو  مزید  اچھا  بنائیں  گے، سیکرٹری وزارت صحت نے کمیٹی کوبتایا کہاکہ پی ایم ڈی سی کے تمام ملازمین کی اکتوبر کی تنخواہ ادا کردی گئی ہے، پی ایم ڈی سی کے ملازمین کواگلے چھ ماہ کی تنخواہ دیں گے۔پی ایم سی کے آرڈیننس پر عمل ہورہاہے .سیکرٹری پی ایم سی نے کہاکہ پرانے ملازمین کو نئے ریگولیشن کے تحت لگایا جائے گا۔29نومبر کو پی ایم سی کیے بورڈ کا اجلاس ہوگا اس میں اس مسئلہ کو رکھا جائے گا تاکہ چھوٹے سکیل کے ملازمین کافیصلہ کیاجائے گا مگرملازمین کونئے قوانین کے تحت لگائیں گے ۔پی ایم ڈی سی کے سابق ملازمین عدالت میں گئے ہیں اس لیے یہ کیس عدالت میں بھی چل رہاہے . سینیٹر جہانزیب جمال دینی نے کہاکہ ایک آرڈیننس سے 250ملازمین کو نوکری اے نکال دیا ہے پی ایم ڈی سی کو بحال کیاجائے۔عثمان کاکڑ نے الزام لگایاکہ  میڈیکل کالجوں کو مراعات دینے کے لیے پی ایم سی آرڈیننس لایاگیاہے ملازمین نے کمیٹی کوبتایاکہ کہاکہ کمیٹی نے جو ہدایات دیئے ہیں اس پر عمل نہیں ہورہاہے عدالت کے حکم پر تنخواہوں کے حوالے سے وزارت نے یہ کہاہے۔سیکرٹری وزارت صحت نے کہاکہ پی ایم ڈی سی کے سیکرٹری کی 5لاکھ اور ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کی تنخواہ 6لاکھ ہے حادثہ اچانک نہیں ہوتے ہیں،پی ایم ڈی سی کے ملازمین کے پنشن کا مسئلہ حل کیا جائے۔ بلوچستان یونیورسٹی میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب پر قائمقام وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی نے کہاکہ 91سے 56کیمرے کردیے گئے ہیں جو کیمرے اتارے گئے ہیں وہ اضافی نہیں ہے یونیورسٹی کو شدید سکیورٹی تریٹ ہیں ۔تین سیکورٹی تریٹ مجھے ملے ہیں آئی ایس آئی نے بھی تریٹ جاری  کئے ہیں کہ آپ کے اور بچوں کو قتل کیا جاسکتا ہے اور سیکورٹی کے سنگین مسائل ہیں۔کوئی کیمرے فالتو نہیں تھا مگر اس کے باوجود کمیٹی کے کہنے پرکیمرے اتارے گئے ہیں۔بلوچستان یونیورسٹی دوسری جامعات کی طرح نہیں ہیں،اس معاملے پر خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی،ایچ ای سی کی گائیڈ لائینز پر عمل کر رہے ہیں،اب یونیورسٹی میں نصب کیمروں کی تعداد 91 سے کم ہو کر 56 رہ گئی ہے،چیئرمین  کمیٹی نے  کہاکہ کیا کیمرے نصب کرتے وقت علم نہیں تھا کہ یہ 35 کیمرے فالتو ہے؟ جس پر قائمقام وائس چانسلر نے کہاکہ یہ فالتو نہیں ہیں یونیورسٹی کو سنجیدہ نوعیت کے سیکیورٹی خدشات ہیں۔بلوچستان یونیورسٹی عام یونیورسٹی  نہیں ہے۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ اس کے باوجود آپ نے 35 کیمرے فالتو قرار دے کر اتروا دئے۔آئی جی ایف سی سے ملاقات ہوئی ہے، بلوچستان یونیورسٹی کی زیر استعمال جگہ خالی کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے، ایف سی نے بلوچستان یونیورسٹی چھوڑنے کی یقین دہانی کرائی گئی،مگرچھوڑنے کے لئے کوئی وقت نہیں دیا گیا، چھوڑنے تک طلبہ یا فیکلٹء میں سے کسی سے کوئی رابطہ نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔بلوچستان یونیورسٹی کو16کروڑ کابجٹ خسارہ ہے ہمارے پاس اگلے ماہ تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں ہیں۔سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ جب تک انکوائری کا نتیجہ نہیں آتا معاملہ حل نہیں ہو گا۔ جن لوگوں پر الزام لگے وہ ابھی تک اپنے عہدوں پر ہیں۔ صوبائی حکومت میں اتنی جان نہیں کہ کچھ کر سکے۔ہماری تمام امیدیں ہائیکورٹ سے وابستہ ہیں۔ طاہر بزنجو نے کہاکہ اضافی کیمرے آخر لگائے کس کے حکم پر گئے تھے؟سابق وائیس چانسلر کو تحقیقات میں شامل کیوں نہیں کیا جائے حقائق سامنے آنے چاہئے کہ اضافی کیمرے لگوانے میں کس کا ہاتھ تھا۔ایچ ای سی حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ 59ارب روپے ملے ہیں ۔ بجٹ  میں 10بلین روپے کم ملاہے کٹ کی وجہ سے جامعات میں تنخواہوں کا مسئلہ ہے۔جامعات میں سکیورٹی کیمروں کے حوالے سے ایس او پی جامعات کودے دی ہے اس کے ساتھ ایچ ای سی بھی ایک پروگرام لائی  ہے جس کے تحت 70جامعات میں کیمرے لگائے جائیں گے اس کے ساتھ سمارٹ کیمپس کے تحت جامعات کو انٹرنیت سے منسلک کیاگیاہے ۔کمیٹی میں ایچ ای سی حکام نے انکشاف کیاکہ ان جامعات میں انٹرنیت ڈیٹا پی ٹی اے اور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں کودیتے ہیں جو اس کاتجزیہ کرتے ہیں ۔کمیٹی نے جامعات کے طلبہ کاڈیٹا  ایجنسیوں کو دینے پر شدید تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ طلبہ کوبتائے بغیرایسا کرناکسی صورت مناسب نہیں ہے ۔
#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.