بھارت میں کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ پر خاتون پروفیسر اور شوہر پر مقدمہ

بھارت میں کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ پر خاتون پروفیسر اور شوہر پر مقدمہ
علی گڑھ یونی ورسٹی کی پروفیسر ہما پروین نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا
نئی دہلی(صباح نیوز) بھارتی پولیس نے علی گڑھ یونی ورسٹی کی خاتون پروفیسر اور ان کے شوہر کے خلاف سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیر سے متعلق پوسٹ کرنے پر مقدمہ درج کرلیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق علی گڑھ یونی ورسٹی کی پروفیسر ہما پروین نے سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر نہایت معمولی سے پوسٹ کرتے ہوئے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا، لیکن نام نہاد سیکولر و جمہوری ملک میں پولیس اور ہندو انتہا پسندوں کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی۔علی گڑھ یونی ورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ کی پی ایچ ڈی پروفیسر ہما پروین نے لکھا تھا کہ سچ میں رابطہ ٹوٹ جانا کتنا خطرناک اور دکھ بھرا ہوتا ہے چاہے چندریان ہو یا کشمیر۔بھارت نے گزشتہ دنوں چندریان کے نام سے چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا جس کے چاند پر اترنے سے چند لمحوں قبل رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ ہما پروین نے اسی کا موازنہ کشمیر سے کیا۔34سالہ ہما پروین کے شوہر نعیم شوکت کشمیری صحافی ہیں جو 5اگست کو بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے وقت کشمیر میں تھے اور دونوں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے رابطہ کافی عرصے تک منقطع رہا۔ہندو مہاسبھا کے رہنما اشوک پانڈے نے پروفیسر کے خلاف فوج کے مورال اور ملک کی سلامتی کو نقصان کے الزام میں مقدمہ درج کرادیا۔دوسری جانب ہما پروین نے اپنے موقف میں کہا کہ میں نے سوشل میڈیا پر پہلے سے موجود پوسٹ شیئر کرائی تھیں جن میں مشہور شاعر راحت اندوری اور گاندھی کی جمہوریت اور اختلاف رائے کے احترام کے اقوال شامل ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.