ملک کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کی درآمدات میں 25 فیصد اضافہ‘ مجموعی درآمدی بل 18 کروڑ 93 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا

اسلام آباد (خصو صی رپورٹ) پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کا درآمدات میں سال 2013 ء کے مئی تا جولائی کے مہینوں کے دوران گزشتہ سال کے اس عرصے کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے پاکستان کے محکمہ شماریات کے مطابق سال 2013 ء کے مئی تا جولائی کے مہینوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کا درآمدات کی مجموعی لاگت 18 کروڑ 93 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی جو کہ گزشتہ سال کے اس عرصے کے دوران 14 کروڑ 58 لاکھ ڈالر تھی ادارے کے مطابق آئی ٹی کے شعبے کے خدمات میں سب سے زیادہ اضافہ کمپیوٹر ہارڈویئر کنسلٹنسی کے شعبے میں 178 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ سافٹ ویئر کنسلٹنسی کے شعبے میں 24.61 فیصد‘ کمپیوٹروں کی مرمت کے شعبے میں 18.38 فیصد اور دیگر کمپیوٹر سروسز کی درآمدات میں 61.68 فیصد اضافہ ہوا ادارے کے مطابق سال 2013 ء کے مئی تا جولائی کے مہینوں میں مجموعی درآمدی بل کا حجم 7.166 ارب ڈالر ریکارڈ کیاگیا جو کہ گزشتہ سال کے اس عرصے کے 7.367 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.73 فیصد کم ہے۔ مالیاتی سروسز کی درآمدات امسال 13.43 فیصد اضافے کے ساتھ 113.009 ملین ڈالر رہے جبکہ گزشتہ سال یہ حجم 99.630 ملین ڈالر تھی ۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ بینک کمیشن ‘ چارجز اور دیگر سروسز میں اضافہ ہے۔ رائلٹیز اور ٹریڈ مارکس کی درآمدات 8.52 فیصد اضافے کے ساتھ 131.190 ڈالر تک رہی جبکہ گزشتہ سال یہ حجم 120.887 ملین ڈالر تھا ۔ جبکہ دیگر بزنس سروسز کی خدمات کی شرح 5.07 فیصد اضافے کے ساتھ 1.452 ارب ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 1.382 ارب ڈالر تھی ۔ غیر ملکی ماہرین کو ادائیگیوں کی شرح 12.70 فیصد اضافے کے ساتھ 433.884 ملین ڈالر رہی‘ یہی شرح گزشتہ سال کے اسی عرصے مئی تا جولائی کے مہینوں میں 384.998 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی معاونت کے تبادلے کی خدمات ‘ایکسچینج کوآپریشن سروسز کی شرح 22.13 فیصد اضافے کے ساتھ 287 ملین دالر رہی جو کہ گزشتہ سال 235 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی ثقافتی خدمات کی درآمدات کی شرح 7.89 فیدص اضافہ ہوا اور یہ شرح گزشتہ سال کے 3.059 ملین ڈالر کے مقابلے میں 3.326 ملین ڈالر ریکارڈ کیاگیا حکومتی خدمات درآمدات کی شرح 7.89 فیصد کے اضافے کے ساتھ 801.753 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی جو کہ گزشتہ سال اس عرصے میں 743.102 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

Leave a Reply