Facebook, Twitter and Youtube will befuture war front (Urdu)

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) امریکہ نے انٹرنیٹ نیٹ ورک کو محفوظ کرنے کے علاوہ فیس بک اور ٹیوٹر پر امریکہ اور حلیف ممالک کے خلاف جاری مخالفانہ مہم کا موثر مقابلہ کرنے کیلئے بھی حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے۔ عرب ممالک میں حال ہی میں عوامی بغاوت کی کامیابی کی بڑی وجہ فیس بک اور ٹیوٹر پر پیغام رسانی اور تحریک کے کارکنوں میں مضبوط رابطے قرار دئیے جا رہے ہیں۔ امریکی فوجی اداروں اور اعلیٰ فنی صلاحیتوں کے حامل اداروں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں جامع حکمت عملی وضع کرنے میں تعاون کریں تاکہ امریکہ مخالف پراپیگنڈے کو غیر مؤثر کرنے کیلئے سماجی نیٹ ورک کی نئی منصوبہ بندی کی جا سکے جو مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم کی بنیاد پر ہو۔ اس طرح ذرائع ابلاغ میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گا جس میں ناصرف پراپیگنڈہ کو غیر مؤثر کیا جائے گا بلکہ غلط معلومات کو ایسے انداز میں پیش کیا جائے گا کہ وہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر لی جائیں۔ عرب ممالک میں طویل عرصہ سے امریکہ کے اتحادی حکمرانوں کے خلاف جو موثر تحریک اٹھی اور بعض اہم اتحادی سربراہان کو اقتدار سے الگ کرنے کی وجہ بنی ہے اس تحریک نے امریکی اداروں کو نئی صف بندی پر مجبور کر دیا ہے۔ ان امریکی اداروں کے دانشوروں نے عرب ممالک‘ افریقہ اور ایشیا میں فیس بک‘ ٹیوٹر اور یو ٹیوب جیسے مؤثر سماجی نیٹ ورک کو بھی استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ انٹرنیٹ کے سماجی نیٹ ورک پر امریکی فوجی‘ سیاسی اور اقتصادی پالیسیوں پر کھلم کھلا تبصرے سے ہو رہے ہیں اور ان تحریروں میں پیغامات کا بھی تبادلہ ہوتا ہے جس سے امریکی حکمت عملی کو کسی نہ کسی حد تک بے نقاب کر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس موثر طریقہ اظہار کو ناکام بنانے کیلئے مضبوط اور جامع لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا تاکہ اس سماجی نیٹ ورک پر ہی رہتے ہوئے امریکہ مخالف قوتوں کو ناکام بنایا جا سکے کیونکہ اب زمین کی بجائے انٹرنیٹ پر جنگ لڑی جائے گی۔ امریکی ادارے اس نئے جنگ کیلئے 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت دنیا بھر میں 2 سے 5 ہزار رضا کار انٹرنیٹ کے ذریعے کردار ادا کریں گے اور لاکھوں انسانوں کو غیر محسوس طریقے سے اس جنگ میں ملوث کر لیں گے۔

Leave a Reply