Site icon Teleco Alert

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے پر کنٹریکٹ دے کر برآمدات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم

منی لانڈرنگ کا قانون بھی طاقتور کو نہیں پکڑ سکتا۔  ایک طبقے کیلئے پلاننگ کرنے سے ملک پیچھے رہ گیا۔، عمران خان

انصاف پر ترقی نہ ہو تو معاشرے پر اثرات پڑتے ہیں۔آئی ٹی کے استعمال سے ملکی برآمدات بڑھا سکتے ہیں

ڈیجیٹل پاکستان ملک کا مستقبل ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے پر کنٹریکٹ دے کر ہم اپنی برآمدات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم کاتقریب سے خطاب

اسلام آباد(ویب ڈیسک )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ کا قانون بھی طاقتور کو نہیں پکڑ سکتا۔ صرف ایک طبقے کیلئے پلاننگ کرنے سے ملک پیچھے رہ گیا۔ انصاف پر ترقی نہ ہو تو معاشرے پر اثرات پڑتے ہیں۔ ملک کے پیچھے رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں اشرافیہ کے لیے منصوبہ بندی کی گئی تاہم مجھے امید ہے کہ ہم آئی ٹی اور نوجوانوں کو استعمال کرکے اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں۔اسلام آباد میں سندھ اور بلوچسان میں تیز ترین موبائل براڈبینڈ ڈیٹا سروسز فراہم کرنے کے لیے یونیورسل سروسز فنڈ (یو ایس ای) کی جانب سے معاہدوں کی دستخط تقریب سے خطاب میںانہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت غربت ہے وہ بہت وسیع علاقہ ہے لیکن اس علاقے کو بہت نظرانداز کیا گیا اور وہ بہت پیچھے رہ گیا، یہاں تک کہ جہاں سے سوئی گیس نکلی وہاں سے دیگر علاقوں کو فراہم کی گئی لیکن وہ علاقہ پتھروں کے دور میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یکطرفہ ترقی جو ہمارے ملک میں ہوتی ہے اس کے معاشرے پر بہت برے اثرات ہوتے ہیں، دنیا کی ترقی کو بھی دیکھیں تو جب غریب ملک غریب تر ہوتے ہیں اور امیر ممالک میں سارا پیسا لگ جاتا ہے تو منی لانڈرنگ کے قانون بھی طاقت ور ممالک کو تحفظ دیتے ہیں اور کمزور ممالک کو کوئی تحفظ نہیں دیتا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جب دنیا میں غیرمنصفانہ ترقی ہوتی ہے تو معاشرے کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بھی یہی رہا ہے کہ ایک چھوٹے سے طبقے کے لیے انگریزی تعلیم دی گئی جبکہ باقی دینی مدارس کو ہم نے نظر انداز کردیا کہ وہاں کیا تعلیم دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا ایک وقت تھا کہ سرکاری اردو میڈیم سے بہت بڑے دانشور آتے تھے لیکن آہستہ آہستہ پیسے بنانے کے لیے انگیریزی میڈیم اسکولز کی کی دکانیں کھل گئیں اور سرکاری اسکولز اور پیچھے چلے گئے۔دوران خطاب ان کا کہنا تھا کہ 60 کی دہائی میں دنیا پاکستان کی مثال دیتی تھی اور بہت سے ممالک کے لیے پاکستان رول ماڈل تھا لیکن ہم پیچھے اس لیے رہ گئے کہ یہاں جو منصوبہ بندی کی گئی وہ صرف اشرافیہ اور چھوٹے سے طبقے کیلیے کیا گیا، ایک وقت میں سرکاری ہسپتالوں میں بہترین علاج ہوتا تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ ہسپتال غریبوں کے لیے رہ گئے اور نجی ہسپتال پیسے والوں کے لیے ہوگئے۔عمران خان نے کہا کہ یہ جو مفاہمت کی یادداشت ہم نے کی ہے یہ بہت مثبت چیز ہے اور ہم نے سوچا کہ پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو جوڑیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں لوگوں کی زندگی کو بہتر کرنے کے لیے جوڑنا(کنیکٹی وٹی) زبردست طریقہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں جب بھی مواصلات جاتی ہے تو لوگ اوپر آنا شروع ہوجاتے ہیں، موبائل فون کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ان علاقوں جہاں لوگوں پر تعلیم نہیں پہنچی وہاں لوگ اس کے ذریعے تعلیم حاصل کرتے ہیں، میرے گھر کے بھی کئی ملازم خود موبائل فون چلاتے ہیں اور کچھ کے فیس بک اکاونٹس بھی ہیں۔پانچویں صنعتی انقلاب سے متعلق انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا بہت بڑا کردار ہے اور 4 جی اور 5 جی سے بہت بہتر اثر پڑے گا جبکہ کورونا وائرس کے دوران ورچوئل ایجوکیشن کا بہت فائدہ ہوا ہے اور اب ہمیں بھی یہ آئیڈیا ملا ہے کہ اسے ان علاقوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں اساتذہ کو نہیں بھیج سکتے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پاکستان ملک کا مستقبل ہے، وزارت آئی ٹی اچھا کام کر رہی ہے لیکن ہم نے ابھی بہت کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں، آئی ٹی اور رابطوں کو استعمال کریں تو مجھے امید ہے کہ ہم اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے پر کنٹریکٹ دے کر ہم اپنی برآمدات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

#/S

Exit mobile version