Site icon Teleco Alert

 کشمیر کی موجودہ صورتحال پر مضبوط اور اہم فیصلوں کی ضرورت ہے،سید علی گیلانی

کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کی طرف سے کچھ مضبوط اور اہم فیصلوں کی ضرورت ہے،سید علی گیلانی
پاکستان کو کل جماعتی پارلیمانی میٹنگ طلب کرنی چاہیے
ہوسکتا ہے یہ آپ کے ساتھ آخری رابطہ ہو، علی گیلانی کا وزیراعظم کو خط
موجودہ صورتحال میں آپ سے رابطہ قومی اور ذاتی ذمہ داری ہے،
بھارت کی جانب سے متنازع علاقے کی حیثیت کو تبدیل کرنے پر آپ کی اقوام متحدہ میں تقریر قابل تعریف ہے
بھارت کشمیر کی سیاسی حیثیت ختم کرکے ہماری زمین زبردستی چھیننا چاہتا ہے، پاکستان کی طرف سے کچھ مضبوط اور اہم فیصلوں کی ضرورت ہے
کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کی بقا کے لیے یہ اہم موڑ ہے پاکستان کو کل جماعتی پارلیمانی میٹنگ طلب کرنی چاہیے
حریت کانفرنس کے چیرمین کا وزیر اعظم پاکستان کے نام خط
#/H
آئٹم نمبر…72
سرینگر،اسلا م آباد(صباح نیوز) کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے وزیراعظم عمران خان کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ  ہوسکتا ہے یہ آپ کے ساتھ میرا آخری رابطہ ہو، علالت اور زائد عمری شاید دوبارہ آپ کو خط لکھنے کی اجازت نہ دے۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کی طرف سے کچھ مضبوط اور اہم فیصلوں کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم پاکستان کے نام لکھے گئے خط کے متین میںسید علی گیلانی نے   کہا کہ موجودہ صورتحال میں آپ سے رابطہ قومی اور ذاتی ذمہ داری ہے، بھارت کی جانب سے متنازع علاقے کی حیثیت کو تبدیل کرنے پر آپ کی اقوام متحدہ میں تقریر قابل تعریف ہے، کشمیری اپنی جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوئے، بھارت کی جانب سے غیرقانونی فیصلوں کے بعد یہاں کی عوام مسلسل کرفیو جھیل رہی ہے، عوام کو نوٹسز بھیجے جارہے ہیں کہ ان کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جائے گا۔خط میں مزید کہا گیا ہیکہ کشمیری خواتین کو ہراساں کرنے کا عمل جاری ہے، بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، بھارت نے غیر قانونی اقدامات کرکے اپنی طرف سے پاکستان سے ہوئے معاہدوں کو ختم کیا ہے، بھارت کشمیر کی سیاسی حیثیت ختم کرکے ہماری زمین زبردستی چھیننا چاہتا ہے، پاکستان کی طرف سے کچھ مضبوط اور اہم فیصلوں کی ضرورت ہے۔سید علی گیلانی کا خط میں کہنا تھاکہ کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کی بقا کے لیے یہ اہم موڑ ہے، پاکستان کو کل جماعتی پارلیمانی میٹنگ طلب کرنی چاہیے، حکومتی سطح پر کچھ کارروائی عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔خط میں مطالبہ کیا گیاہیکہ پاکستان بھارت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کرے، پاکستان دوطرفہ معاہدوں شملہ، تاشقند اور لاہور معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرے، ایل او سی پرمعاہدے کے تحت باڑ لگانے کے معاہدے کو بھی ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے، حکومت پاکستان ان سارے فیصلوں کو لے کر اقوام متحدہ بھی جائے۔
#/S

Exit mobile version