کشمیر ی خواتین کا سری نگر میں احتجاجی مظاہرہ، بھارتی فورسز کا  مظاہرین پر حملہ

 کشمیر ی خواتین کا سری نگر میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، بھارتی فورسز کا  مظاہرین پر حملہ
بھارت کے سابق چیف جسٹس بشیر خان کی اہلیہ حوا بشیر عمر عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ کو گرفتار کر لیا گیا
خواتین پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے احتجاجی خواتین کو گھیر لیا متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا
 سری نگر(کے پی آئی) بھارت کے سابق چیف جسٹس بشیر خان کی اہلیہ حوا بشیر،سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ سمیت متعدد  خواتین مظاہرین کو سری نگر میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ منگل کوسرینگر میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے خواتین کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کے بعد سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس مظاہرے کا مقصد انڈیا کی حکومت کی جانب سے اگست میں علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔دہلی سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن سوشوبا بہورے اور حوا بشیر بھی مظاہرے میں شریک تھیں جنھیں موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔حوا بشیر انڈیا کے سابق چیف جسٹس بشیر خان کی اہلیہ ہیں۔جب مظاہرین سرینگر کے لال چوک پر پریس کالونی کے قریب جمع ہونا شروع ہوئے تو خواتین پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے انھیں گھیر لیا۔پولیس وین میں دھکیلے جانے سے پہلے عمر عبداللہ کی بہن ثریا نے کہا: دیکھو، یہ لوگ خواتین کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ یہاں صورتحال نارمل ہے۔ کیا یہ نارمل ہے؟سماجی کارکن قرا العین نے بھی پولیس کی کارروائی پر تنقید کرتے ہویے کہا: انڈیا نے کشمیر کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ہم یہاں پِس رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ سب معمول کے مطابق ہے۔کارکنوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری دلہنیں برائے فروخت نہیں اور قوم سے جھوٹ بولنا بند کریں لکھا تھا۔احتجاج میں شامل ایک خاتون کا کہنا تھا انڈین حکومت باہر سب سے کہہ رہی ہے کہ کشمیر میں سب ٹھیک ہے اور کشمیری لوگ خوش ہیں لیکن آپ نے ہمارے ساتھ جو کیا ہم اس سے خوش نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کم سے کم یہ تو پوچھے کہ ہم خوش کیوں نہیں ہیں۔پانچ اگست کے بعد سے حکومت نے فاروق عبداللہ، سجاد لون، شاہ فیصل اور محبوبہ مفتی سمیت 200 سیاسی رہنماں کو یا تو گرفتار کر لیا یا انھیں ان کے گھروں میں قید کر دیا تھا۔نئی دلی کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد سے ہی کشمیر کے حالات کشیدہ ہیں۔آرٹیکل 370 کے تحت گذشتہ چھ دہائیوں سے غیر کشمیریوں کو وہاں زمین خریدنے، ملازمتیوں کے لیے درخواست دینے یا ریاست میں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔
#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.