مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار درگارہ حضرت بل سرینگر میں محفل میلاد کی اجازت نہیں

 
مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار درگارہ حضرت بل سرینگر میں  محفل میلاد کی اجازت نہیں
سرینگر،10نومبر (ساؤتھ ایشین وائر):
 
مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار عید میلاد النبی ۖ کے موقع پر درگارہ حضرت بل سرینگر میں کشمیریوں کو محفل میلاد کی اجازت نہیں دی گئی  ۔ 
 ہر سال ہزاروں کشمیری 12ربیع الاول کو حضور نبی کریم ۖ کے یوم پیدائش کے موقع پر 24گھنٹے  جاری رہنے والی محفل میلاد میں شرکت کیلئے درگاہ حضرت بل پہنچتے ہیں۔ تاہم اس بار کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار درگاہ حضرت بل میں عبادت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔
ایک  اعلیٰ سیکورٹی افسر رشید گنائی نے ساؤتھ ایشین وائر کو کو بتایا کہ عید میلا النبی ۖ کے موقع پر کسی قسم کے اجتماع کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔درگاہ حضرت بل اور ملحقہ علاقوں سمیت پورے سرینگر شہر میں بھارتی فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے ۔ کشمیری اس سے قبل ہرسال رات بھرجاری رہنے والی عبادت میں شرکت کرتے اور پھر نماز فجر کے بعد نبی اکرمۖ کے موئے مبارک کی زیادت کرتے تھے ۔
کشمیریوں  نے درگاہ حضرت بل پر مذہبی اجتماع کی اجازت نہ دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس سے انکے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور یہ ان کے مذہبی امور میں قابض انتظامیہ کی براہ راست مداخلت ہے ۔
درگاہ حضرت بل کے نگران نے بتایا ہے کہ عید میلا د النبیۖ ہر سال کی طرح شایان شان طریقے سے منانے اورشب میلاد کیلئے تمام انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی تھی ۔ تاہم قابض انتظامیہ نے اس پر پابندی عائد کردی ۔

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.