جعلی خط  پوسٹ  میں ملوث حکومتی عہدیداروں کیخلاف ایف آئی اے سائبر کرائم  کو درخواست

مولانا عبدالغفور حیدری نے  جعلی خط  پوسٹ  میں ملوث حکومتی عہدیداروں کیخلاف ایف آئی اے سائبر کرائم  کو درخواست دیدی
درخواست میں ڈیلیٹ کیے جانے والے مواد کو ریکورکر کے تادیبی کارروائی کرنے کا مطالبہ
مولانا عبدالغفور حیدری نے پراجیکٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم کو درخواست دی ہے۔

اسلام آباد(صباح نیوز)جے یو آئی(ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے آزادی مارچ کیخلاف جعلی خط  پوسٹ اور ٹویٹ کرنے والے حکومتی عہدیداروں کیخلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو بھی کارروائی کیلئے درخواست دیدی ۔درخواست میں ڈیلیٹ کیے جانے والے مواد کو ریکورکر کے تادیبی کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔متعلقہ وفاقی وزیر کے علاوہ کراچی سے  تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی  کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان کی طرف سے  آزادی مارچ کو بدنام کرنے کیلئے  جعلی خط سوشل میڈیا پوسٹ اورٹویٹ کیے گئے ۔جمعیت علماء اسلام ف کی قیادت کارکنوں اور حامیوں کی توہین کی گئی، ایف آئی اے  کے سائبر کرائم  ونگ سے درخواست کی گئی ہے کہ  متعلقہ وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی دونوں افرادکے سوشل میڈیا اور ٹوئٹر ا کائونٹس پر متعلقہ جعلی خط کی تحقیقات کرتے ہوئے کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ اگرچہ وفاقی وزیر نے  ٹوئٹس ڈیلیٹ کردئیے ہیں تاہم پوسٹ کرنے کے حوالے سے  تحقیقات ضروری ہیں اسی طرح متعلقہ ایم این اے کیخلاف بھی انسداد سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔جے یو آئی (ف)نے جعلی ہدایت نامہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر سائبر کرائم سے رجوع کیا ہے ۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے پراجیکٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم کو درخواست دی ہے۔ تین صفحات پر مشتمل درخواست سینئر ایڈووکیٹ کامران مرتضی کے توسط سے تیار کی گئی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جعلی ہدایت نامے کو وفاقی وزیر فواد چوہدری اور ممبر قومی اسمبلی عامر لیاقت نے ٹوئٹ کیا جس کے بعد یہ ہدایت نامہ سوشل میڈیا پروائرل ہوگیا۔درخواست میں کہا گیا کہ جعلی ہدایت نامے سے پارٹی قیادت اور کارکنان کی کردار کشی ہوئی، بعد ازاں ان حضرات نے اپنے ٹویٹس ڈیلیٹ کردیئے۔درخواست میں ڈیلیٹ کیے جانے والے مواد کو ریکورکر کے تادیبی کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.