آن لائن  سہولیات کی فراہمی کا مقصد شہریوں کو سرکاری دفاتر میں زحمت سے بچانا ہے

اسلام آباد انتظامیہ اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی مشترکہ کوششوں سے ایپ  بنادی گئی
ہے باہمی  اشتراک سے  شہری  سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ آن لائن  سہولیات کی فراہمی کا مقصد شہریوں کو سرکاری دفاتر میں لمبی قطاروں اور طویل انتظار  کی زحمت سے بچانا ہے
شہریوں کو انکی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی یقینی  ہوگی  وزیراعظم افس کا  دعویٰ
باقاعدہ اجرا آج وزیرِ اعظم عمران خان نے کیا

اسلام آباد (صباح نیوز)  اسلام آباد انتظامیہ  اور  نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی مشترکہ کوششوں سے تمام اداروں کو ایک پیج پر لا کرایپ  بنادی گئی ہے باہمی  اشتراک سے  شہری  سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ آن لائن  سہولیات کی فراہمی کا مقصد شہریوں کو سرکاری دفاتر میں لمبی قطاروں اور طویل انتظار  کی زحمت سے بچانا ہے وزیراعظم افس نے دعوی کیا ہے کہ  اس  جدید، اہم اور منفرد ایپ سے  شہریوں کو انکی دہلیز پر شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنایا جارہا ہے ۔یہ ایپ اسلام آباد انتظامیہ اور  نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے  اشتراک سے متعارف کرائی گئی ہے جس کا باقاعدہ اجرا آج وزیرِ اعظم عمران خان نے کیا۔جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے  43 مختلف سہولیات   شہریوں کو آن لائن فراہم کی جا ئیں گی ۔ اس ایپ  میں ای پولیسنگ، ایمرجنسی سروسز، ڈومیسائل،  شناختی کارڈ، اراضی فرد، اسلحہ لائسنسز، گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹوکن ٹیکسز کی ادائیگی،  پیدائش و ڈیتھ سرٹیفیکیٹس کا اجرا و دیگر مختلف سہولیات شامل ہیں۔بالخصوص کرونا وائرس سے بچاؤ  سے متعلق اگر کسی فارمیسی پر ماسک موجود نہیں ہیں تو شہری اس ایپ کے ذریعے اس فارمیسی کی تصویر  کھینچ کر اس ایپ پر بھیج سکتے ہیں جس سے انتظامیہ بروقت کاروائی کر سکے گی۔ اس کے علاوہ یہ ایپ فارمیسی کے مالکان کے خلاف کارروائی میں بھی نہایت مدد گار ثابت ہو گی جو شہریوں کو مہنگے ماسک بیچ رہے ہیں ۔بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر  وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو انکی دہلیز پر شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے ایک  جدید، اہم اور منفرد ایپ کا اجرا کر دیا گیا۔یہ ایپ اسلام آباد انتظامیہ اور  نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے  اشتراک سے متعارف کرائی گئی ہے جس کا باقاعدہ اجرا بدھ کو  وزیرِ اعظم عمران خان نے کیا۔
#/S

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.