آن لائن تعلیم سسٹم کو ایچ ای سی کی طرف سے روکنے پر شدید تشویش کا اظہار

آن لائن تعلیم سسٹم کو ایچ ای سی کی طرف سے روکنے پر شدید تشویش کا اظہار، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
ایچ ای سی کی ایجوکیشن فرینڈ لی اپروچ نہیں ہے اچھے کام کو روکنا تعلیمی دشمنی ہے چیئرمین کمیٹی
نسٹ ، قائداعظم اور کامیسٹس یونیورسٹی کی فوری طور پر مدد کرئے تاکہ تعلیم و ریسرچ میں روکاٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے
لیکچرار کو 40 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے ۔ حکام ، قائمہ کمیٹی نے دوگنا کرنے کی سفارش کر دی
تنخواہ دینے کے بھی پیسے نہیں ہیں ، ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کے ریٹ میں اضافہ کیا ہے لاہورکیمپس خسارے میں چل رہاہے راحیل قمر

اسلام آباد(صباح نیوز)سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے آن لائن تعلیم سسٹم کو ایچ ای سی کی طرف سے روکنے پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ایچ ای سی کی ایجوکیشن فرینڈ لی اپروچ نہیں ہے اچھے کام کو روکنا تعلیمی دشمنی ہے ، حکومت کو نسٹ ، قائداعظم اور کامیسٹس یونیورسٹی کی فوری طور پر مدد کرئے تاکہ ان اداروں میں فروغ تعلیم و ریسرچ میں روکاٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکچرار کو 40 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے جس کوقائمہ کمیٹی نے دوگنا کرنے کی سفارش کر دی ۔کامسیٹس حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ہمارے پاس تنخواہ دینے کے بھی پیسے نہیں ہیں ،کامسیٹس نے ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کے ریٹ میں اضافہ کیا ہے لاہورکیمپس خسارے میں چل رہاہے ۔ جمعرات کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشتاق احمدخان کی زیر صدارت کامسیٹس یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کامسیٹس یونیورسٹی کو درپیش مالی مسائل کے علاوہ ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی سے ادارے کے کام کے طریقہ کار ، ذمہ داریاں اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے انتظامیہ کودرپیش مسائل ، ایچ ای سی انتظامیہ کی طرف سے ورچوئل کیمپس ریگولیشن اور یونیورسٹیوں کی آمدن پیدا کرنے کی تجاویز کے علاوہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو درپیش مالی مسائل کے حل اور ورکرز ویلفیئر بورڈکی طرف سے کامسیٹس یونیورسٹی کے 500 ملین کی عدم ادائیگی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کامسیٹس یونیورسٹی سے بریک اپ حاصل کیا تھا جس کے مطابق یونیورسٹی کو 221 ملین روپے دینے ہیں ۔  وفاق نے 1.8 ملین کا چیک یونیورسٹی کو دے دیا ہے  ۔ صوبہ خیبر پختونخواہ نے 63 ملین روپے ایک ہفتے میں دینے کی یقین دہانی کرائی ہے ، صوبہ پنجاب نے کہا کہ ٹیوشن فیس دے دی ہے ۔130 ملین روپے کا مسئلہ ہے ۔ کامسیٹس نے ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کے ریٹ میں اضافہ کیا ہے ۔ گورننگ باڈی ایک سال سے نہ ہونے کی وجہ سے ریٹس کی منظوری کے بغیر ادائیگی نہیں کر سکتے ۔رواں ماہ گورننگ باڈی تشکیل دے دی جائے گی ۔ ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ورکرز ویلفیئر ادارے کے 1701 طلباء مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کے ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی کامسیٹس خود براداشت کر رہا ہے جن پر سالانہ 267 ملین روپے خرچ ہوتا ہے اور اب تک 1.3 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں ۔ جس کی وجہ سے لاہور کیمپس خسارے میں جارہا ہے ۔یہ طلباء 2004-5 سے مفت پڑھ رہے ہیں ۔چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کامسیٹس یونیورسٹی نے ادارے کی بلڈنگ جب لیز پر لی تھی تو کیے گئے معاہدے میں یہ شامل ہے ۔ورکرز ویلفیئر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کامسیٹس یونیورسٹی کے کچھ بل ادا کر دیئے ہیں بقیہ ادائیگی ان کی طرف سے بل تیار ہونے پر کر دی جائے گی ۔ ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 2000 میں کل طلباء و طالبات کی تعداد277 تھی جو اب 36 ہزار ہو چکی ہے ۔66 ہزار طلباء و طالبات فارغ التحصیل ہو چکے ہیں ۔ادارے کے 8 ریسرچ سینٹر ہیں ۔ ادارے کا آپریٹنگ بجٹ64 ملین تھا جو اب 8.3 ارب ہو چکا ہے ۔ ڈویلپمنٹ بجٹ36 ملین سے 772 ملین ہو چکا ہے ۔ ایچ ای سی سے ڈویلپمنٹ بجٹ 2008 سے بند ہے اور ہماری گارنٹ پر کٹ لگنے کی وجہ سے آئندہ ماہ تنخواہیں دینے کے بھی فنڈز نہیں ہیں ۔80 فیصد بجٹ تنخواہوں میں خرچ ہوتا ہے ۔ 11 فیصد بجٹ پر کٹ لگنے سے 252 ملین بجٹ کم ہوا ہے ۔افراط زر اور تنخوہواں میں اضافے کی وجہ سے مجموعی طور پر 575 ملین کا فرق پڑا ہے ۔ جس کی وجہ سے وزیراعظم پاکستان کی ایک سکیم بھی ختم کر دی گئی ہے اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچے اس سے کافی متاثر ہوئے ہیں ۔طلباء وطالبات کو دیئے جانے والے 1 ارب کے وظائف کو کم کر کے 70 کروڑ کر دیا گیا ہے ۔ملک کی تمام یونیورسٹیوں کو ایچ ای سی کی طرف سے بجٹ پر کٹ لگنے سے ان مسائل کا سامنا ہے ۔ادارے نے 2.2 ارب گرانٹ طلب کی تھی مگر1.466 ارب روپے گرانٹ ملی ہے ۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ دنیا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی طرح پاکستان کے تعلیمی ادارے بھی نہ صرف فروغ تعلیم اور ریسرچ کے شعبے میں نمایاں بہتری لائیں بلکہ اپنے وسائل بھی خود پیدا کریں ۔انہوں نے کہا کہ 2000 میں پاکستان میں کل 57 یونیورسٹیاں تھیں اب 200 سے بھی زائد ہو چکی ہیں صرف 18 سالوں میں 150 نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں ۔ مزید یونیورسٹیاں بنانے سے بہتر یہی ہے کہ ان کے معاملات کو موثر کیا جائے ۔ بیلنس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وزیراعظم پاکستان نے سکولوں پرزیادہ توجہ دینے کی ہدایت کی ہے ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ ہمیں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے فنڈز پر کٹ نہیں لگانا چاہئے ورنہ وہ مجبوراً ہڑتال کی طر ف چلے جائیں ۔تعلیمی اداروںکے پاس وسائل کوفروغ دینے میں وقت لگے کا ان کو ٹریک پر لا کر پھر یہ طریقہ کار کار آمد ہوگا ورنہ ایسے ادارے بند ہو جائیں گے ۔ کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ایک لیکچرار کو 40 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے ۔جسے قائمہ کمیٹی نے دوگنا کرنے کی سفارش کر دی ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نسٹ ، قائداعظم اور کامیسٹس یونیورسٹی کی فوری طور پر مدد کی جائے تاکہ ان اداروں میں فروغ تعلیم و ریسرچ میں روکاٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ایچ ای سی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یونیورسٹیوںکی کمرشل پالیسی پر کام کر رہے ہیں ۔ قائمہ کمیٹی نے تعلیمی اداروںمیں ہونے والے منشیات کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارے منشیات و تمباکو نوشی کے کنڑول کیلئے سخت اقدامات اٹھائیں ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 76لاکھ افراد منشیات کے عادی ہو چکے ہیں ہمارے اعلیٰ تعلیم اداروں کے طلبا ء و طالبات میں کا نشے کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے منشیات کے استعمال کی روک تھام ،بحالی اور تعلیمی اداروںکے کیمپس کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن فوری طور پر موثر اقدامات اٹھائے ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یونیورسٹیوں کی طرف سے کیے جانے والے معاہدے کے حوالے سے کیبنٹ سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے جس میں عرصہ لگ جاتا ہے اور کوئی بھی معاہدہ وزارت خارجہ امور کے بغیر نہیں کیا جا سکتا ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایچ ای سی کمیشن کی رواں ماہ کے آخر میں میٹنگ ہے جس میں کمرشل پالیسی کی منظوری حاصل کر لی جائے گی ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ورچوئل کیمپس کے حوالے سے ایک پالیسی بنائی ہے جسے منظوری کیلئے بھیجا گیا ہے جس میں ورچوئل یونیورسٹی لاہور ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، سرحد یونیورسٹی اور چوتھا سمارٹ کلاس روم ماڈل زیر غور ہیں ۔ یہ پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ کر کے تشکیل دی گئی تھی جسے ایچ ای سی کی ہونے والی میٹنگ میں پیش کیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ سے ایک رپورٹ آئی ہے جس میں40 فیصد اساتذہ اپنا مضمون بھی نہیں پڑھا سکتے ۔ بہتر اور معیاری اساتذہ ملک کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں   ۔قائمہ کمیٹی نے آن لائن تعلیم سسٹم کو ایچ ای سی کی طرف سے روکنے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2016 میں اس پر پابندی لگانے سے دور دراز کے علاقوں میں فروغ تعلیم میں روکاٹیں پیداہوئی ہیں ۔ ایچ ای سی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 2013 میں کچھ اداروں نے منظوری کے بغیر اس پر کام شروع کیا اور کچھ اداروں نے اس کا غلط استعمال بھی کیا ۔یونیورسٹیوںکو ایک چارٹر ملتا ہے ۔ چارٹر میں ترمیم کے بغیر کام نہیں کیے جاسکتے ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ایچ ای سی کی ایجوکیشن فرینڈ لی اپروچ نہیں ہے اچھے کام کو روکنا تعلیمی دشمنی ہے ۔ایچ ای سی سات برسوں میں اپنی پالیسی نہیں بنا سکا ۔معاملات کو کیس ٹو کیس بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایچ ای سی کی طرف سے 2019-20 میں103 ارب روپے کی بجٹ ڈیمانڈ تھی مگر 59 ارب روپے بجٹ فراہم کیا گیا اور تنخواہوں کی صرف ادائیگی 86.42 ارب روپے بنتی ہے ۔بے شمار یونیورسٹیاں اگلے ماہ تنخواہ ادا نہیں کر سکتی ۔اگر21 ارب روپے فراہم کیے جائیں تو موجود سال مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ا یچ ای سی حکام نے کہا

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.